واشنگٹن: امریکہ میں جاری شدید گرمی کی لہر نے بجلی اور پانی کے نظام پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد بھی تنقید کا نشانہ بن گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مراکز بڑی مقدار میں بجلی اور پانی استعمال کر رہے ہیں، جس سے پہلے سے دباؤ کا شکار انفراسٹرکچر مزید متاثر ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز ملک کی مجموعی بجلی کا تقریباً 4 فیصد استعمال کرتے ہیں، جو 2030 تک بڑھ کر 9 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس وقت ملک بھر میں ہزاروں نئے ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔ گرمی کے باعث بجلی کے نظام پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے، اور مشرقی ریاستوں میں بجلی فراہم کرنے والے اداروں نے ڈیٹا سینٹرز سے ہنگامی طور پر بیک اپ جنریٹرز استعمال کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ عام صارفین کو بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
سیاسی سطح پر بھی یہ معاملہ زیر بحث ہے۔ ٹیکساس کے گورنر نے دیہی علاقوں میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر پابندی کی تجویز دی ہے، جبکہ کچھ سینیٹرز اور اراکینِ کانگریس نے نئے منصوبوں پر عارضی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ہر 10 میں سے 7 امریکی اپنے علاقوں میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے خلاف ہیں، جس کی بڑی وجہ بجلی اور پانی کا زائد استعمال بتائی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق گرمی کے دوران کولنگ سسٹمز کے لیے بجلی کی کھپت 40 فیصد تک بڑھ سکتی ہے، جبکہ روزانہ لاکھوں گیلن پانی بھی استعمال ہوتا ہے، جس سے خشک سالی کے شکار علاقوں کی صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔

