سکیورٹی فورسز نے 4 دنوں میں بلوچستان میں 54 دہشت گرد ہلاک کر دیے، آپریشنز میں 42 اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے: ڈی جی آئی ایس پی آر

IMG 20260708 WA2239


اسلام آباد:بیورو رپورٹ محمد سلیم سے:)  پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ چار روز کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں 54 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ وطن کے دفاع میں 42 اہلکار شہید ہو گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پہلا واقعہ 4 اور 5 جولائی کی درمیانی شب ہنہ اوڑک میں پیش آیا جہاں مقامی آبادی نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، جس میں 4 شہری جاں بحق اور 6 زخمی ہوئے۔ دوسرا اور سب سے خونریز واقعہ 6 جولائی کو مانگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن کے قریب پیش آیا جہاں دہشت گردوں نے پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کر کے اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔ سکیورٹی فورسز کے محاصرہ تنگ کرنے پر دہشت گردوں نے 18 پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا؛ اس واقعے میں مجموعی طور پر 27 پولیس جوان شہید اور 26 خارجی ہلاک ہوئے۔
تیسرا واقعہ آج بیلہ میں فوجی قافلے پر بی ایل اے کے حملے کی صورت میں پیش آیا جس میں ایک جے سی او سمیت 10 فوجی جوان شہید اور 14 دہشت گرد مارے گئے۔ خاران میں 6 اور دالبندین میں 8 دہشت گرد بھی آپریشنز میں ہلاک کیے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام لگایا کہ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارت ملوث ہے اور یہ کارروائیاں افغان طالبان حکومت کے تعاون سے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔

متعلقہ پوسٹ