بین الاقوامی ڈیسک
مغربی ایشیا میں کشیدگی کے دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھمکی، دھونس اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا ہے اور ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں قالیباف نے امریکہ پر "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)” کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے طے پایا تھا۔ یہ بیان امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے ایران کے اندر 80 سے زائد اہداف — بشمول فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار اور آئی آر جی سی کی کشتیوں — پر حملوں کی تصدیق کے فوراً بعد سامنے آیا۔ پینٹاگون نے ان کارروائیوں کو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کا جواب قرار دیا۔
قالیباف نے اپنے بیان میں پانچ شکایات گنوائیں: جنوبی ایران پر حملے، مزید حملوں کے مستقل خطرات، تیل پابندیوں کی بحالی، آبنائے میں ایرانی بحری کارروائیوں میں امریکی مداخلت، اور لبنان کے خلاف "جاری صہیونی جارحیت”۔
انہوں نے واضح کیا: "دھونس اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہم کبھی نہیں جھکیں گے۔”
واشنگٹن اپنی کارروائیوں کو بین الاقوامی تجارت کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتا ہے جبکہ تہران انہیں باہمی مفاہمت کے خاتمے کے مترادف سمجھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق قالیباف کا مؤقف نازک سفارتی کوششوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

