امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے پیر کو علی الصباح ایران پر فضائی حملوں کے ایک نئے مرحلے کا اعلان کیا، جو مسلسل حملوں کا نواں دن ہے۔ سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری عسکری صلاحیتوں، میزائل و ڈرون لانچنگ سائٹس اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔ اس سے قبل اتوار کو ایرانی جوہری توانائی ادارے نے کہا تھا کہ امریکہ نے جنوب مغربی ایران میں زیرِ تعمیر سول جوہری پلانٹ پر بھی حملہ کیا، جسے ادارے نے "وحشیانہ جارحیت” اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق تبریز، چاہ بہار، کنارک، بندر ماہ شہر اور بندر امام خمینی میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ جزیرہ قشم پر کم از کم ۶ میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں۔ عبوری جنگ بندی معاہدہ عملاً ناکام ہو چکا ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری تجارتی سرگرمیاں دوبارہ معطل ہو گئی ہیں۔ عالمی منڈیوں میں برینٹ خام تیل کی قیمت ۹۰ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ صدر ٹرمپ نے کہا: "ہم نے آج رات ایک بار پھر انہیں سختی سے نشانہ بنایا، یہ فوجیوں کی ہلاکت کا جواب ہے۔”
جوابی کارروائی میں ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے کویت میں امریکی فوجی اہداف، العدیری کیمپ اور علی السالم ایئر بیس پر موجود ایم کیو-۹ ڈرونز کے ہینگر کو نشانہ بنایا۔ اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر امریکی سی-۱۷ اور پی-۸ طیاروں پر بیلسٹک میزائل داغے گئے، جبکہ الازرق ایئربیس کے ۲۰ ہینگرز تباہ کر دیے گئے۔ شام میں بھی امریکی تنصیبات نشانہ بنیں۔ آبنائے ہرمز میں ۲ آئل ٹینکر دھماکوں سے ناکارہ ہوئے۔ بحرین میں امریکی سفارت خانے نے دارالحکومت منامہ کے لیے وارننگ جاری کی۔
امریکی فوج کے مطابق ۲۸ فروری سے جاری اس جنگ میں اب تک ۱۷ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں شمالی عراق میں ایک ڈرون ناکارہ بناتے ہوئے اور اردن میں میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے ۲ فوجی شامل ہیں۔

