مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں کو البانیز نے ’’منظم قتل عام‘‘ قرار دیا؛ ایم ایس ایف اور یورپی یونین کا اظہارِ تشویش

Inquilab 20260725 185730 0000 d


مقبوضہ مغربی کنارہ: اقوامِ متحدہ کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی حملوں کو ”منظم قتل عام“ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اسلحے کی پابندی اور اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی روابط معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
البانیز نے ہفتے کے روز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا: ”غزہ آگ کی لپیٹ میں ہے اور مغربی کنارے میں نہتے شہریوں پر قتل عام جاری ہے۔“ انہوں نے اسرائیلی شہریوں (غیرقانونی آبادکاروں) اور فوج پر ان حملوں میں ”متحد ہونے“ کا الزام لگایا اور کہا کہ اس کی ذمہ داری صرف وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو یا ”چند بگڑے ہوئے افراد“ تک محدود نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ”ابھی اسلحے کی پابندی عائد کی جائے، تجارت روکی جائے“، اور کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایسے اقدامات لازمی ہیں۔
واضح رہے کہ مغربی کنارے میں تازہ تشدد، غیرقانونی اسرائیلی بستی ’حوات گیلاد‘ کے قریب ایک فائرنگ کے واقعے میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کے بعد شروع ہوا، جب جمعہ کے روز نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیرِ دفاع کاٹز نے مغربی کنارے کے فلسطینی دیہاتوں میں ”بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی“ کا حکم دیا۔ اس کے بعد اسرائیلی قبضہ کاروں نے نابلس گورنری کی متعدد فلسطینی آبادیوں پر حملہ کرکے گھروں اور املاک کو آگ لگا دی۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق نابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبے ’تل‘ پر حملے میں 4 فلسطینی شہید ہوئے۔
یورپی یونین کی ’شدید تشویش‘
یورپی یونین نے جمعہ کے روز مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات پر ”شدید تشویش“ کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک شدگان کے خاندانوں سے تعزیت کی اور کشیدگی میں کمی لانے کا مطالبہ کیا۔ یورپی یونین کے ترجمان نے کہا: ”آج کے واقعات زمین پر موجود صورتحال کے نازک ہونے کی یاد دہانی کراتے ہیں۔“ انہوں نے تمام فریقین پر اشتعال انگیز زبان سے گریز اور تشدد کے بے رحم چکر کے خاتمے پر زور دیا۔
ایم ایس ایف کا نابلس ہسپتال پر چھاپے پر ردعمل
’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ (ایم ایس ایف) نے اسرائیلی افواج کی جانب سے ’نابلس اسپیشلائزڈ ہسپتال‘ پر دھاوا بولنے کی اطلاعات پر ”شدید تشویش“ کا اظہار کیا۔ فلسطین میں ایم ایس ایف کے مشن کے سربراہ فلپ ربیرو نے کہا: ”ہمیں آج نابلس سے ملنے والی اطلاعات پر شدید تشویش ہے، جہاں اسرائیلی افواج کے اسپتال پر چھاپے کے ساتھ ساتھ گورنری میں دیگر مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں 4 فلسطینی اور 2 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے۔“ انہوں نے اس تشدد کو ”اسرائیلی چھاپوں، ریاستی سرپرستی میں آبادکاروں کے تشدد، بنیادی خدمات میں تعطل اور شہریوں و طبی دیکھ بھال پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے وسیع تر سلسلے کا حصہ“ قرار دیا اور کہا: ”فلسطین میں کہیں بھی اسپتالوں، ایمبولینسوں، عملے اور مریضوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔“

متعلقہ پوسٹ