دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک دی اکانومسٹ کی مدیر کے سوال ”کیا آپ مسلم مخالف ہیں؟” پر تذبذب میں مبتلا ہو گئے۔ جانیے اس انٹرویو میں مسک نے کن خیالات کا اظہار کیا۔
ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سی ای او اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے دی اکانومسٹ کو انٹرویو میں براہِ راست پوچھے جانے پر کہ کیا وہ خود کو مسلم مخالف سمجھتے ہیں، امیگریشن اور مغربی اقدار پر اپنے خیالات کا دفاع کیا۔ یہ سوال دی اکانومسٹ کی ایڈیٹر ان چیف زینی منٹن بیڈوز نے سیاست، امیگریشن اور مصنوعی ذہانت پر وسیع گفتگو کے دوران اٹھایا۔ مختصر توقف کے بعد مسک نے براہِ راست ہاں یا نہ میں جواب نہیں دیا۔ اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ وہ ان لوگوں کے مخالف ہیں جو کسی ملک میں ”متضاد نظریات” لے کر داخل ہوتے ہیں۔
مسک نے کہا: ”میں عصمت دری اور قتل کے خلاف ہوں، اور ان قوانین و ضوابط کے نفاذ کے خلاف ہوں جو مغرب میں ہماری قبول شدہ اقدار کے منافی ہیں۔” بعد ازاں انہوں نے استدلال کیا کہ تشویش تب پیدا ہوتی ہے جب لوگ کسی ملک میں ہجرت کرتے ہیں اور ایسے عقائد رکھتے ہیں جو اس کے قوانین اور سماجی اقدار سے متصادم ہوں۔ مسک نے روایتی میڈیا پر بھی تنقید کی اور کہا کہ صحافیوں کا ان کی باتوں میں فرق پہچاننے میں ناکام رہنا ”انتہائی افسوسناک” ہے۔
انٹرویو کے ایک اور حصے میں مسک نے نسل پرستی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ساتھی نیم ہندوستانی ہیں اور ان کے ساتھ ان کے چار بچے ہیں، جن میں سے ایک کا نام ایک مشہور ہندوستانی طبیعیات دان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: ”تو میں کہوں گا کہ میں نسل پرست نہیں ہوں،” اور مزید کہا کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس میں مختلف نسلی پس منظر سے تعلق رکھنے والے سینئر ایگزیکٹوز کام کرتے ہیں اور انہیں یقین نہیں کہ ان کی کمپنیوں میں نسل پرستی موجود ہے۔
مزید برآں مسک نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا کہ وہ انتہائی دائیں بازو کی حمایت کرتے ہیں، اور کہا کہ سرحدی سلامتی، عوامی تحفظ اور سرکاری اخراجات پر ان کے خیالات انتہا پسند سیاست کے بجائے عام لوگوں کے خدشات کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ انٹرویو ٹیکساس کے آسٹن میں ٹیسلا کی گیگا فیکٹری میں ہوا، جس میں مصنوعی ذہانت، چین کی تکنیکی ترقی اور برطانیہ کے سیاسی منظرنامے کا بھی احاطہ کیا گیا۔ اگرچہ مسک نے مصنوعی ذہانت سے منسلک خطرات کو تسلیم کیا، لیکن انہوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ممکنہ خطرات کے باوجود بالآخر انسانیت کو فائدہ پہنچائے گی۔

