ہرمز انتظام سنبھالنے سے متعلق عمان سے حالیہ مذاکرات میں امریکہ شامل نہیں: ایران


ایران کی وزارتِ خارجہ نے پیر کو واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے کے حوالے سے عمان کے ساتھ جاری حالیہ مذاکرات میں امریکہ کسی طرح شامل نہیں ہے۔ وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ یہ مذاکرات خالصتاً ایران اور عمان کے درمیان ایک دوطرفہ معاملہ ہیں اور بدستور جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آبی گزرگاہ فی الحال بند ہے۔ قبل ازیں اتوار کو ایران نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کے سلسلے میں عمان سے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔
بقائی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ثالثوں کے ذریعے امریکہ سے ایران کو پیغامات موصول ہوئے، تاہم واشنگٹن سے براہِ راست کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ خیال رہے کہ ایران اور امریکہ نے پیر کو لڑائی موقوف رکھی، جس سے خلیج میں جہاز رانی اور تیل کی صنعت کو میزائل حملوں سے وقتی طور پر تحفظ مل گیا۔ اقوامِ متحدہ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نمائندے نے کہا کہ صدر مذاکرات کو موقع دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی فوج نے مسلسل تیرہ راتوں تک ایران پر حملے کیے، جس کے بعد سے دونوں ممالک نے لڑائی روک رکھی ہے۔
بقائی نے یہ بھی کہا کہ ایران امریکہ کو جنگ اور امن کے وقت یا دورانیے کا تعین کرنے کی اجازت نہیں دے گا، اور ملک اپنے قومی مفادات کے مطابق دفاع جاری رکھے گا۔ انہوں نے یوکرین کی جانب سے ایرانی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کو ایک خطرناک اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ ان کے بقول بعض خلیجی ممالک ایران کے خلاف امریکی جنگ میں ملوث رہے ہیں، اور امید ہے کہ علاقائی ممالک آئندہ ایسا تعاون جاری نہیں رکھیں گے۔ بقائی نے مزید کہا کہ ایران نے کبھی امریکہ سے مذاکرات کی بحالی کی درخواست نہیں کی۔
آسٹریا کے ٹیلی ویژن ادارے او آر ایف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، مگر واشنگٹن کی فوجی کارروائیوں کے باعث سفارت کاری کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات مذاکرات کے لیے سازگار نہیں، اور ایران کی اولین ترجیح فی الوقت اپنی خودمختاری کا دفاع ہے، نہ کہ مذاکرات کا آغاز۔

متعلقہ پوسٹ