چین — امریکہ میں سخت امیگریشن پالیسیاں اور بیرونِ ملک طلبہ کے خلاف بڑھتی ہوئی تشویش کے تحت چین میں نجی اداروں کی جانب سے ایسے ’’ہائی رسک انوائرنمنٹ ٹریننگ کیمپ‘‘ شروع کیے گئے ہیں جہاں امریکہ جانے والے طلبہ کو ICE (امریکن امیگرشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کی ممکنہ چھاپوں، اغوا، فون فراڈ، نفرت انگیز جرائم اور نسلی امتیاز جیسے خطرات سے نمٹنے کی عملی تربیت دی جاتی ہے۔
کیمپوں میں فرضی چھاپے اور اغوا کے منظرنامے ترتیب دیے جاتے ہیں تاکہ طلبہ کو دباؤ میں مناسب ردعمل سکھایا جا سکے۔ ایک مشق میں نقاب پوش افراد طالب علم کے کمرے میں داخل ہوتے ہیں، انہیں باندھا جاتا ہے اور تاوان کی ویڈیو بنوائی جاتی ہے۔ دیگر مشقوں میں فرضی ICE اہلکاروں کے ساتھ بات چیت، شناختی دستاویزات کے بارے میں سوالات، ہنگامی رابطہ نمبرز کا استعمال اور ذاتی حفاظت کے طریقے شامل ہیں۔
تربیتی مراکز کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد بچوں میں خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ انہیں حقیقت پسندانہ انداز میں ممکنہ خطرات کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار کرنا ہے۔ والدین خاص طور پر امریکہ کی امیگریشن پالیسیوں اور چینی شہریوں کے خلاف سخت جانچ پرخوف زدہ ہیں، اسی لیے انہوں نے بچوں کو ایسے کورسز میں داخل کروانا شروع کیے ہیں۔
تربیت مکمل کرنے والی ایک طالبہ لولو لو نے کہا، "مجھے امید ہے کہ مجھے ان میں سے کسی چیز کا کبھی استعمال نہ کرنا پڑے، مگر یہ سب سیکھ کر میں زیادہ محتاط اور باخبر محسوس کرتی ہوں۔” بعض والدین نے بڑھتی ہوئی خدشات کے باعث امریکہ کے بجائے برطانیہ کو ترجیح دینا شروع بھی کر دی ہے۔
چینی سرکار نے امریکہ جانے والے طلبہ کے لیے احتیاطی سفری ہدایات جاری کی ہیں، جن میں امیگریشن اہلکاروں کے ساتھ ممکنہ سخت پوچھ گچھ اور سفری دستاویزات کی تیاری شامل ہے۔ تاہم یہ تربیتی کیمپ سرکاری نہیں بلکہ نجی اداروں کے زیرِ انتظام ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ کیمپوں کی مقبولیت امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور بین الاقوامی طلبہ کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا عکس ہے۔ ناقدین کا شمار یہ بھی ہے کہ فرضی اغوا جیسے شدید منظرنامے نوجوانوں میں غیر ضروری خوف پیدا کر سکتے ہیں اور نفسیاتی اثرات کا احتمال ہے۔
امریکہ اب بھی چینی طلبہ کے لیے مقبول تعلیمی منزل ہے، تاہم طلبہ کی تعداد چند برسوں میں کمی دکھا چکی ہے؛ گزشتہ تعلیمی سال میں امریکی جامعات میں 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد چینی طلبہ زیرِ تعلیم تھے۔ اس کے باوجود والدین اور ادارے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر احتیاطی اقدامات کر رہے ہیں۔

