جنگی کشیدگی کے دوران روس نے ایران کے ساتھ اپنی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کو انسانی امداد فراہم کرنے والا دنیا کا پہلا ملک ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
کینیا میں روسی سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان کے مطابق روس کا ایک IL-76 فوجی کارگو طیارہ 13 ٹن سے زائد طبی سامان لے کر آذربائیجان پہنچا، جہاں سے یہ امداد زمینی راستے، یعنی ٹرکوں کے ذریعے سرحد پار کرتے ہوئے ایرانی حکام تک منتقل کی جائے گی۔
روسی وزارتِ ہنگامی حالات کے مطابق اس امدادی کھیپ میں ادویات اور ضروری طبی آلات شامل ہیں۔ یہ پوری امدادی کارروائی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے براہِ راست احکامات پر انجام دی گئی ہے، جو روس اور ایران کے درمیان گہرے اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ اقدام ایسے نازک موقع پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر پابندیوں کا دباؤ بدستور جاری ہے۔ روس کی اس پیش قدمی کو سفارتی حلقوں میں ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ ماسکو، تہران کے ساتھ اپنے اتحاد پر قائم ہے۔

