بیجنگ / اسلام آباد —
چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق، افغانستان کے لیے چین کے خصوصی ایلچی یو شیاویونگ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان شٹل ڈپلومیسی میں مصروف ہیں، جبکہ دونوں ملکوں میں چینی سفارت خانے متعلقہ فریقین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
چینی وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے افغانستان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ دونوں فریق سکون کا مظاہرہ کریں، جلد از جلد براہِ راست مذاکرات کریں، فوری جنگ بندی کو یقینی بنائیں اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا کہ موجودہ لڑائی کی شدت پہلے سے کہیں زیادہ ہے اور اس کا طول پکڑنا یا مزید بڑھنا دونوں ممالک کے لیے سنگین نقصانات کا باعث بنے گا۔ چین دہشت گردی کی تمام اشکال کے خلاف ہے اور دونوں فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ سکون برقرار رکھیں، تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
چینی ثالثی کی کوششوں میں صدر شی جن پنگ کا ایک خصوصی پیغام بھی شامل تھا، جو چینی سفیر جیانگ زائیدونگ نے وزیرِاعظم شہباز شریف تک پہنچایا، جس میں دشمنی ختم کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔
چینی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ اس وقت سب سے ضروری کام لڑائی کو مزید پھیلنے سے روکنا اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔

