تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی سیکوریٹی کابینہ نے غزہ کے ان علاقوں میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے جہاں اسرائیل کا کنٹرول نہیں ہے۔ اس مشن کو "انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس” کا نام دیا گیا ہے، جس میں یوگنڈا اور مراکش جیسے دوست ممالک کے تقریباً 200 اہلکار شامل ہوں گے۔ ہر دستے کے داخلے کے لیے اسرائیل کی علیحدہ منظوری درکار ہوگی، تاحال تعیناتی کی تاریخ واضح نہیں کی گئی۔
گزشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے امن منصوبہ پیش کیا تھا، جو تاحال تعطل کا شکار ہے۔ اسرائیل اس وقت غزہ کے تقریباً 64 فیصد رقبے پر کنٹرول رکھتا ہے جبکہ تقریباً 20 لاکھ افراد باقی ماندہ حصے میں ابتر حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے کابینہ کو بتایا کہ وہ غزہ، جنوبی لبنان اور شام سے بڑے پیمانے پر انخلا کے کسی بھی امریکی مطالبے کو مسترد کریں گے۔ چند روز بعد نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات متوقع ہے، جس میں نیتن یاہو ایران کے جوہری پروگرام کی مسلسل نگرانی پر زور دیں گے۔

