بچوں کے دانتوں کی خرابی روکنے کا نیا اور آسان طریقہ سامنے آگیا
ایک خاص دوا دانت پر لگانے سے خرابی پھیلنے سے رک جاتی ہے اور دانت مزید نقصان سے محفوظ رہتا ہے۔
ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بچوں کے دانتوں کی خرابی کو صرف چند لمحوں میں بغیر سوراخ کیے اور بے ہوشی کی دوا استعمال کیے روکا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک خاص دوا دانت پر لگانے سے خرابی پھیلنے سے رک جاتی ہے اور دانت مزید نقصان سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ دوا دانت پر صرف چند لمحوں کے لیے لگائی جاتی ہے جس کے بعد یہ نقصان پہنچانے والے جراثیم کو ختم کرنے اور دانت کے باقی حصے کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین نے ایک سے چھ سال عمر کے 830 بچوں پر تحقیق کی جن کے دودھ کے دانت بری طرح متاثر تھے۔ تحقیق میں شامل بچوں میں دوا لگانے کے چھ ماہ بعد معلوم ہوا کہ نصف سے زائد متاثرہ دانتوں میں خرابی مزید بڑھنے سے رک گئی۔
تحقیق کے دوران ایک گروپ کو اصل دوا جبکہ دوسرے گروپ کو عام محلول دیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ دوا استعمال کرنے والے بچوں میں دانتوں کی خرابی روکنے کی شرح عام محلول استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ نہ صرف مؤثر بلکہ محفوظ بھی ثابت ہوا ہے اور ایک سال عمر کے بچوں میں بھی اس کے اطمینان بخش نتائج سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کے دوران کسی سنگین مضر اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی، البتہ چند بچوں میں معمولی نوعیت کی شکایات سامنے آئیں۔
اگرچہ اس طریقہ علاج کا ایک نمایاں نقص یہ ہے کہ متاثرہ دانت پر مستقل گہرا رنگ آ جاتا ہے تاہم ماہرین کے مطابق اس کے بدلے دانت کی خرابی، درد اور انفیکشن کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔
تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس طریقہ علاج سے خاص طور پر ایسے بچوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جہاں دانتوں کے معالج تک بروقت رسائی ممکن نہیں۔ چونکہ اس میں زیادہ وقت نہیں لگتا اور کسی جراحی عمل کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی، اس لیے بنیادی طبی مراکز میں بھی اس کے استعمال کے امکانات موجود ہیں۔
ماہرین نے کہا ہے کہ اس طریقہ علاج کی مزید حوصلہ افزائی اور منظوری سے بچوں میں دانتوں کی خرابی، درد اور بعد میں مہنگے علاج کی ضرورت کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

