جناب شہباز شریف، وزیراعظم اسلامی جمہوریۂ پاکستان
جناب نریندر مودی، وزیراعظم رپبلک آف انڈیا
آپ دونوں کو اور دونوں ملکوں میں بسنے والے ڈیڑھ ارب انسانوں کو یوم آزادی مبارک ہو۔ 14 اور 15 اگست 1947 کو جب دونوں ممالک دنیا کے نقشے پر ابھر رہے تھے تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ صدیوں اور ہزاریوں تک ایک ساتھ رہنے والے جب الگ الگ قوم کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھریں گے تو وہ کیسے خود کو منوائیں گے اور کیسے دنیا کی قوموں کے شانہ بشانہ ترقی کی منازل طے کریں گے۔
جب امریکہ کے پاکستان میں سفیر پال ایلنگ قائداعظم سے ملے اور پوچھا کہ آپ مستقبل میں انڈیا کے ساتھ کیسے تعلقات رکھنا چاہیں گے؟ جس پر قائداعظم نے جواب دیا تھا جیسے امریکہ اور کینیڈا کے ہیں۔
آج اس بات کو 80 سال گزر چکے ہیں لیکن قائد کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا۔ کیوں نہیں ہو سکا؟ اس پر دفتر کے دفتر لکھے جا سکتے ہیں لیکن عام فہم بات اتنی ہی ہے کہ دونوں جانب اعتماد سازی کا فقدان ہے۔
وہ جن کے صحن کبھی سانجھے ہوا کرتے تھے ان کے بیچ دیواریں کیا کھنچیں کہ وہ پرکھوں کے رشتے بھول کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔
خون تب بھی بہت بہا تھا جب ہم الگ الگ ہوئے تھے اور خون اب بھی بہت بہہ رہا ہے جب ہم ایک دوسرے سے سوائے نفرت کے کوئی دوسرا رشتہ رکھنا نہیں چاہتے۔
جناب شہباز شریف اور جناب مودی!
کیا یہ درست نہیں کہ ہمارے جیسے مشترکات شاید ہی کسی اور خطے کے دو ممالک میں ہوں، جن کی زبان اور تاریخ ایک ہے، نسل ایک ہے، جو ہزاروں لاکھوں سال سے ایک ہی خطے میں باہم رہتے چلے آ رہے ہیں۔
ہمارے اجداد جنہوں نے آج سے لاکھوں سال پہلے دریائے سواں کی غاروں میں آنکھیں کھولیں۔ وہ آٹھ ہزار سال پہلے مہر گڑھ میں شعور کی بلندیوں پر پہنچے۔ چھ ہزار سال پہلے انہوں نے موہن جو دڑو اور ہڑپا جیسی شہری آبادیاں قائم کیں اور تین ہزار سال پہلے وہ پشاور سے ایودھیا تک ایک جدید ریاستی ڈھانچے میں ڈھل چکے تھے۔
2352 سال پہلے انہوں نے سکندر مقدونی کے قدم دریائے جہلم کے کنارے روک لیے۔ وہ سکندر جسے اس وقت کی سپر پاور فارس کا بادشاہ دارا سوم نہیں روک سکا تھا۔ یہ دراصل اس دھرتی کے لمس کا ہی اوجِ کمال ہے کہ یہاں جو کہیں سے آیا جو ہندوستان کے رنگ ڈھنگ میں ڈھل گیا۔
وہ حکمران نسلاً تو آریائی، یونانی یا وسط ایشیائی تھے مگر ان پر ہندوستان کا بسنتی رنگ ایسا چڑھا کہ انہوں نے سترہویں صدی میں اسے دنیا کی سپر پاور بنا دیا۔
اکبر کے عہد میں ہندوستان دنیا کی مجموعی قومی پیداوار کا 27 فیصد پیدا کرتا تھا اور آج امریکہ دنیا کی مجموعی قومی پیداوار کا 24 فیصد پیدا کرتا ہے۔ یعنی اکبر کا ہندوستان امریکہ سے بڑی معیشت تھی۔ ہندوستان کے تکثیری سماج کا چرچا دنیا بھر میں تھا۔ لوگ یہاں کشاں کشاں کھنچے چلے آتے تھے۔
تب یہاں ہندو، مسلمان، سکھ، بدھ، جین سبھی ہنسی خوشی رہ رہے تھے لیکن جب انگریز آیا تو انہوں نے ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کے فارمولے کے تحت نفرت کے ایسے بیچ بوئے کہ ہم ذاتوں، مذہبوں اور فرقوں میں بٹ کر رہ گئے۔ انگریز چلا گیا مگر اس کی لگائی ہوئی نفرت کی آگ میں ہماری نسلیں آج بھی جھلس رہی ہیں۔
تقسیم کے ہولناک فسادات اور پھر سرحدی تنازعات ہمیں اب تک پانچ چھوٹی بڑی جنگوں میں دھکیل چکے ہیں۔ ہم دونوں کے بارود خانوں میں اتنے ہتھیار جمع ہیں کہ جو ایک ساتھ چلائے جائیں تو شاید دنیا سے نسل انسانی ہی معدوم ہو کر رہ جائے۔
جناب شہباز شریف اور جناب مودی!
80 سال بیت چکے۔ قائداعظم اور نہرو کی نسل گزر چکی۔ ان کے پیش رو بھی اپنے آخری دموں پر ہیں۔ تیسری نسل ہماری ہے جسے صرف جنگوں کا ایندھن سمجھا گیا، لیکن اب ایک چوتھی نسل آ چکی ہے جس نے گلوبلائزیشن کے عہد میں آنکھ کھولی ہے۔ یہ جین زی ادھر بھی آمادہ بغاوت ہے اور حالت ادھر بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اس نسل کو ہم اپنی پرانی دشمنیوں کے سوا ورثے میں کچھ نہیں دے سکے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیکن آج ہمیں سوچنا ہے کہ کیا ہمیں اپنے بارود خانوں کو آگ سے دہکانا ہے یا پھر آنے والی نسلوں کو ایک روشن اور تابناک مستقبل دینا ہے۔
دنیا بدل رہی ہے۔ گذشتہ سال مئی میں جس جنگ کی ایک معمولی جھلک ہم دونوں دیکھ چکے ہیں سوچیں کہ اگر وہ طویل ہوتی تو دونوں ممالک کے پاس باقی کیا بچتا۔ دنیا کی دو ایسی فوجیں جو جدید اور خطرناک اسلحے سے لیس ہیں کیا ان کا ٹکرانا کسی مسئلے کا حل ہو سکتا ہے! ہمارے ہمسائے میں دنیا ایک بڑے تنازعے میں گھر چکی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ایک آتش فشاں بنا ہوا ہے۔ ادھر یوکرین روس جنگ کی تپش بھی پوری دنیا محسوس کر رہی ہے۔
نئے نئے فوجی اتحاد بن رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان اور انڈیا کے سامنے سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا ایک پرانا تنازع اتنے بچے دے چکا ہے کہ اس سے اب کئی تنازعے پیدا ہو چکے ہیں۔ یہی کچھ کشمیر کے ساتھ ہو رہا ہے اور یہی منظر نامہ ہم دونوں کے سامنے ہے۔
دنیا میں شاید ہی اتنی پرانی کوئی اور تہذیب ہو گی جو صدیوں کی دانش لے کر چل رہی ہے۔ کیا اس دانش کے وارثان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے بہتر مستقبل کی خاطر اپنی اناؤں کی قربانی دیں۔
اپنے اپنے موقف میں لچک دکھاتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگا لیں۔ یقین جانیے شہباز شریف اور نریندر مودی مل رہے ہوں گے تو صرف دو وزرائے اعظم بغل گیر نہیں ہو رہے ہوں گے بلکہ برِصغیر کے ڈیڑھ ارب انسان ایک دوسرے کو گلے لگا رہے ہوں گے۔
جناب شہباز شریف اور جناب مودی!
گذشتہ آٹھ دہائیوں کی نفرت کو ایک لمحے میں پاٹنا کوئی آسان کام نہیں ہے، لیکن یہ اس جنگ کے میدان سے کہیں زیادہ سہل ہے جو دنوں کے اندر سج جاتا ہے اور دونوں طرف آگ برسنے لگتی ہے۔ ایک پانی پت ختم نہیں ہوتا کہ ایک اور معرکے کی آوازیں لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس عمل کو کہیں تو رکنا ہے، کہیں نہ کہیں سے تو ہم نے بگاڑ کو سدھار میں بدلنا ہے۔
کل کوئی اور آ کر یہ کام کرے تو آپ دونوں کیوں نہیں یہ کام کر سکتے۔ یقین جانیے دونوں قومیں امن کی خواہش رکھتی ہیں، وہ چاہتی ہیں کہ ان کی سرحدوں پر نفرت کی دیواریں زمین بوس ہو جائیں لیکن اگر کوئی اس عمل میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے تو وہ دونوں جانب کی اشرافیہ ہے جن کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں ہے۔ آپ دونوں اس ملک کے عام آدمی کے نمائندے ہیں اور آپ دونوں نے ہی عام آدمی کے مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ اگر ہم دونوں ایک دوسرے کو گلے لگا لیں تو امن کی معیشت ہم دونوں ملکوں کے لیے خوشحالی کے کتنے دروازے کھول دے گی۔
عالمی بینک کہتا ہے کہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت میں سالانہ 35 ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان انڈیا کے لیے وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ تک پہنچنے کا گیٹ وے بن سکتا ہے۔ جو تجارت مال بردار جہازوں کے ذریعے ہو رہی ہے وہ پائپ لائنوں اور سڑکوں کے ذریعے ہونے لگے گی۔ دنیا کا ہر چھٹا غریب یا انڈیا میں رہتا ہے یا پاکستان میں، سوچا جا سکتا ہے کہ اگر دونوں ملکوں میں امن قائم ہو جائے، باہمی تجارت شروع ہو جائے تو ہم ان لوگوں کو خط غربت سے جلد نکال پائیں گے۔
آپ کے لیے راج کٹاس کھل جائے گا ہمارے لیے اجمیر شریف اور نظام دین اولیا کی نئی دہلی کھل جائے گی۔ ہم لاہور جایا کریں گے تو امرتسر میں ڈنر کر کے آیا کریں گے اور آپ کابل جائیں یا تہران، میرا اسلام آباد اور لاہور آپ کی میزبانی کیا کرے گا۔
جناب شہباز شریف اور جناب مودی!
کوئی مسئلہ بڑا نہیں ہوتا۔ بس اسے حل کرنے کے لیے ہماری سوچیں چھوٹی پڑ جاتی ہیں۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ دنیا میں دو طرح کے حکمران ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنی اناؤں کی تسکین کے لیے کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو فلاح کا اور امن کا خواب دیکھتے ہیں۔
تاریخ ایک کو ظالم اور جابر کے نام سے یاد کرتی ہے اور دوسرے کو رحم دل اور انسان دوست کا لقب دیتی ہے۔ اب یہ آپ دونوں پر منحصر ہے کہ آپ اپنا نام کن کے ساتھ لکھوانا چاہتے ہیں۔ برِصغیر کے ڈیڑھ ارب انسانوں کی نظریں پر آپ دونوں پر لگی ہوئی ہیں۔
80 واں یومِ آزادی ایک بار پھر مبارک!
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


