جامعات کی خود مختاری کو درپیش چیلنجز

2726760 SalmanAbid 1729190119


جامعات کی خود مختاری کے نظام اور اس سے جڑے مسائل پر تنقید کرنا آسان ہوتا ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی بھی ہوتی ہے کہ جامعات کی سطح پر وائس چانسلرز کی صورت میں کس طرز کی قیادت کا انتخاب کیا جاتا ہے۔اسی طرح یہ نقطہ بھی اہمیت رکھتا ہے کہ جامعات کے نظام کی سطح پر ریاست،حکومت اور اداروں کی اپنی سیاسی مداخلت کیا ہوتی ہے اور کیاو ہ جامعات کو بغیر کسی مداخلت کے آزادانہ بنیادوں پر کام کرنے کی اجازت دیتی ہے۔جامعات کی خود مختاری پر بات تو بہت ہوتی ہے مگر جو مالیاتی وسائل حکومت اعلی تعلیم پر خرچ کررہی ہے۔

اس سے کیا ہم وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرسکتے ہیںجو ہم چاہتے ہیں۔مسلسل اعلی تعلیم کے مالیاتی بجٹ میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ ریاست اور حکومت کی جامعات کی سطح پر بہتری کی ترجیحات کیا ہیں۔یہ الزام لگانا تو آسان ہے کہ جامعات اعلی تعلیم اور تحقیق کے میدان میں وہ کارکردگی نہیں دکھا سکیں جو ہم ان سے چاہتے ہیں۔لیکن کیا ریاست اور حکومت کا یہ نظام خود بھی اعلی تعلیم کے تناظر میں اپنا احتساب کرنے کے لیے تیار ہے کہ ان کے اپنے طرز عمل اور پالیسیوں نے اعلی تعلیم کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔

جامعات کی خود مختاری کی تعریف کو دیکھیں تو اس کے مطابق ’’اعلی تعلیم و تحقیق کا ادارہ یعنی یونیورسٹی اپنے تمام اہم معاملات میں مکمل طور پر آزاد ہو اور کسی بیرونی ادارے،حکومت یا سیاسی کنٹرول کے بغیر فیصلے کرسکے۔اسی طرح یونیورسٹی اپنے نصابات،معیار تعلیم ،قوانین و ضوابط، تعلیم و تحقیق اور تدریس سے متعلق تمام معاملات اور اساتذہ کی شرائط و ملازمت و تقرریوں سے متعلق ہم قسم اور ہم جہت فیصلہ سازی میں وہ مکمل طور پر آزاد ہو۔یونیورسٹی کو مکمل طور پر خود مختار ادارہ قرار دیا جاتا ہے جہاں اساتذہ،طلبہ اور سینیٹ ،سینڈیکیٹ سمیت اکیڈمک کونسل کی بنیاد پر نظام کو شفافیت کی بنیاد پر چلایا جاتا ہے۔‘‘

عمومی طور پر یونیورسٹی کی خود مختاری کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں تنظیمی سطح کی خودمختاری،مالی خود مختاری،عملہ اور اسٹاف کی خود مختاری اور تعلیمی خود مختاری کے معاملات شامل ہیں۔جب حکومت کی عدم مداخلت کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد حکومتی کردار کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ حکومت کا کردار مالی مدد فراہم کرنااور اعلی تعلیمی معیار کی نگرانی کرنا تک محدود ہونا چاہیے نہ کہ وہ روزمرہ کے انتظامی امور یا سیاسی مداخلت کی طرف جائے۔یہ بات درست ہے کہ خود مختاری کے ساتھ خود احتسابی کا عمل بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔لیکن ہر حکومت جامعات کی سطح پر یا وفاقی یا صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سطح پر نہ صرف سیاسی تقرریوں کی بنیاد پر اپنے کام کو آگے بڑھاتی ہے بلکہ حکومتی صوبائی ارکان جن کی تعداد تین ہوتی ہے ان کو سینڈیکیٹ میں شامل کرکے براہ راست جامعات کے معاملات میں سیاسی مداخلت کرتی ہے۔

جامعات کو اور اس کی خود مختاری کو صوبائی حکومت یا صوبائی وزیر اعلی یا صوبائی بیوروکریسی کی سطح پر عملی طور پر ریموٹ کنٹرول کی مدد سے چلایا جارہا ہے۔ایک طرف حکومتی سیاسی مداخلت اور دوسری طرف بیوروکریسی کی بڑھتی ہوئی مداخلتی عمل نے خود جامعات کے سربراہوں کو کمزور کیا ہے۔اس لیے مسئلہ محض جامعات کی خود مختاری سے زیادہ جامعات کے سربراہ کی اپنی بھی خود مختاری کا ہے جسے اپنے حقیقی کردار ادا کرنے سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔

جب ہم یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہماری جامعات کا گورننس کا نظام خراب ہے اور جامعات کے سربراہ سے جامعات کے معاملات نہیں چل رہے اس کا بھی ایک بڑا عمل دخل حکومتی اور بیوروکریسی کی سطح پر سیاسی اور انتظامی مداخلت سے جڑا ہوا ہے۔اس لیے جہاں بہت کچھ ہمیں جامعات کی سطح پر درست کرنے کی ضرورت ہے وہیں حکومت کو اپنے طرز عمل سے بہت کچھ تبدیل کرنا ہے جو اعلی تعلیم کے معاملات کی سطح پر خرابیوں کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔مسئلہ ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا نہیں بلکہ جامعات کی خود مختاری اور سیاسی مداخلتوں کی بنیاد سے آگے بڑھنے کا ہے۔یہ عمل سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں ہوگا بلکہ سب کو مل کر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔بالخصوص ریاست اور حکومت کا نظام جامعات کی اہمیت کو سمجھے اور اس پر زیادہ سے زیادہ سیاسی اور مالی سرمایہ کاری پر توجہ دیں۔

ہمیں جامعات کی خود مختاری کے لیے دنیا کی طرف دیکھنا ہوگا کہ انھوں نے اپنی جامعات کے نظام کو کیسے بہتری میں تبدیل کیا۔اگر ہم دنیا کی جامعات کی اچھی کاوشوں سے ہی سیکھ لیں تاکہ ہم اپنے اعلی تعلیمی نظام میں بھی بہتری پیدا کرسکیں۔یہ ممکن نہیں کہ حکومت اعلی تعلیم پر کچھ بڑا خرچ نہ کرے اور ہم وہ تعلیمی معیارات کا تقاضہ کریں جو عالمی معیار کے ادارے ہیں۔اس لیے ہمیں جامعات کی خود مختاری کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔لیکن پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم سے جامعات کی سطح پر غلطیاں ہو رہی ہیں۔سب سے بڑا چیلنج تو یہ ہی ہے کہ کیسے ہم سیاسی و بیوروکریسی پر مبنی مداخلت کا خاتمہ کریں۔وائس چانسلرز اور دیگر کلیدی عہدوں پر تقرریوں کا معاملہ مکمل طور پر شفاف ہونا چاہیے اور سرچ کمیٹیوں کے معاملات پر بڑے پیمانے پر نظر ثانی کرنے اور اسے مکمل بیوروکریسی کے کنٹرول سے نکالا جائے۔اسی طرح جامعات کی سطح پر ایڈہاک پالیسی کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور مستقل پالیسیوں کی بنیاد پر نظام کو چلایا جائے۔اسی طرح جامعات کی سطح پر مالی خود مختاری اور بہت زیادہ فنڈنگ اعلی تعلیم اور تحقیق پر رکھی جائے کیونکہ موجودہ فنڈنگ کے تاثر سے یہ ہی اظہار ہوتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں اعلی تعلیم نہیں ہے۔اسی طرح جامعات کو بھی اپنی فنڈنگ پیدا کرنے کے زرائع پیدا کرنے کی اجازت دی جائے۔جامعات کی سطح پر گورننس کے اداروں کو مضبوط کرنے کی طرف خصوصی توجہ دی جائے ۔

سینیٹ،سینڈیکیٹ اور اکیڈمک کونسل کو مکمل اختیارات دیے جائیں اور ان کی ساخت میں سیاسی افراد کی بجائے مختلف شعبہ جات کے ماہرین کی شمولیت کو ممکن بنایا جائے۔فیصلہ سازی کے عمل میں اساتذہ اور طلبہ کی شمولیت کو ہر سطح پر ممکن بنایا جائے۔جامعات کی خود مختاری کے لیے ضروری ہے کہ اس کے نظام کو جہاں خود مختاری دینی ہے وہیں اس میں جوابدہی کے نظام کو موثر اور شفاف بنانا ہوگا تاکہ احتساب کی بنیاد پر نظام کو مزید شفافیت کی طرف لایا جاسکے۔خود مختاری کے ساتھ کارکردگی کے واضح اشاریے یعنی کے پی آئی لاگو کرنے ہونگے۔

باقاعدہ آڈٹ،کوالٹی ایشورنس اور مائیکرو مینجمنٹ پر توجہ دی جائے۔ قیادت اور ادارہ جاتی ثقافت کی تعمیر اور 18ویں ترمیم کے بعد کی صورتحال پر جامعات کی خود مختاری سے جڑے مسائل پر بات چیت کی بنیاد پر اصلاح کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ اسی طرح جامعات کے سربراہ کو بھی سمجھنا ہوگا کہ اس کی جوابدہی بھی جامعات کے اندر بھی ہونی چاہیے اور وہ تمام اساتذہ سمیت طالب علموں اور دیگر انتظامی افراد کا سربراہ ہوتا ہے اور اسے سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ جامعات کے بارے میں یہ جو خبریں سننے کو ملتی ہے کہ فلاں فلاں جامعہ میں ہم مسائل دیکھ رہے ہیں اساتذہ،انتظامیہ اور جامعہ کے سربراہ کے طور پر وہ ختم ہونے چاہیے۔

جامعات کی گورننس کے نظام کی بہتری کی ذمے داری جہاں اس کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے وہیں وائس چانسلرز کو جامعہ کی تمام فیکلٹی اور دیگر فیصلہ سازی کے اداروں کو ساتھ شامل کرنا ہوگا۔ کیونکہ جب تک اجتماعی طور پر مل کر مشترکہ حکمت عملی اختیار نہیں کی جائے گی اور کوئی کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہوگا تو حالات میں بہتری ممکن نہیں ہوتی ۔جامعات کو گورننس کے معاملات کی بہتری کے لیے اب  جدید ماڈل اختیارکرنے ہیں ان میں زیادہ سے زیادہ جامعات کی سطح پر علم و تحقیق کا ماحول اور ڈیجیٹل لائزیشن کی بنیاد پر گورننس کے نظام میں بہتری پیدا کرنا ان کی بڑی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔لیکن یہ کام تن تنہا جامعات اور اس کے سربراہ نہیں کرسکتے جب تک حکومت اور ریاست کا نظام از خود جامعات کی براہ راست سیاسی اور مالی یا انتظامی سرپرستی نہیں کرے گا، ریاست اور حکومت کے نظام کو جامعات کے نظام سے جان چھڑانے کی بجائے ان اہم جامعات کے نظام کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔کیونکہ آج کے دور میں سرکاری یا پبلک جامعات غریب طالب علموں کے لیے ایک بڑی نعمت سے کم نہیں ہے اور ان اداروں کی مضبوطی اور معیارات کے ساتھ کھڑا ہونا عام طلبہ و طالبات کے مفاد میں بھی ہے۔

اس لیے جامعات کی گورننس کے نظام کی بہتری ہماری بڑی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے اور اس پر اعلی تعلیم کے بڑے سابق ماہرین کا کمیشن بنانا ہوگا جو حکومت کو تجویز کرسکے کہ موجودہ حالات میں جامعات کی گورننس کے نظام کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے،اداروں کے سربراہ کو کیسے جوابدہ بنایا جاسکتا ہے اور کیسے جامعات کے نظام کو اعلی تعلیمی معیارات سمیت سیاسی اور بیوروکریسی کی مداخلتوں سے ختم کیا جاسکتا ہے۔لیکن یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب حکومت کے سامنے ہماری اعلی تعلیم اہم اور بڑی ترجیحات کا حصہ ہونگی۔





Source link

متعلقہ پوسٹ