یوم آزادی اور معیشت(آخری حصہ)

2727427 muhammadibrahimkhalil 1729272984


پوری قوم نے اپنا 79 ویں یوم آزادی منایا، کچھ حلقے اپنی معاشی کامیابیوں کا جشن بھی منا رہے ہیں۔ ایسے میں معیشت کے راستے میں بچھے ان کانٹوں اور چیلنجز کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے جو ہماری حقیقی معاشی آزادی کی راہ میں حائل ہیں۔ فروری 2026 سے شروع ہونے والے مشرق وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل تنازع نے عالمی سطح پر سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بحری مال برداری اخراجات، انشورنس اخراجات بڑھنے سے پاکستان کے لیے درآمدات مہنگی ہو گئی ہیں۔

خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اچھال نے اپریل 2026 میں مہنگائی کے کم ہوتے ہوئے گراف کو بڑھا کر 10.9 فی صد پر پہنچا دیا تھا۔ پاکستان کی معیشت کی سب سے بڑی کمزوری اس کا درآمدی ایندھن تیل اور گیس پر شدید انحصار ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی معمولی تبدیلی بھی ہماری حکومت کے بجٹ کا توازن بگاڑنے کے ساتھ ساتھ گھروں میں گھس کر بجٹ کو تہس نہس کر دیتی ہے۔ تیل کی قیمت میں معمولی اضافے سے گھروں میں بدحالی اپنے ڈیرے جما لیتی ہے اور بازاروں میں مہنگائی اپنے پنجے گاڑ لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بیرونی خطرے کے پیش نظر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی مانیٹری پالیسی کو انتہائی محتاط رکھا ہے۔

موجودہ تیل کے نرخوں میں عالمی سطح پر اتار چڑھاؤ اور پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں روزانہ کی تبدیلیوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بجلی گیس کے بھاری ٹیرف نے بھی عام آدمی کے ناک میں دم کر رکھا ہے، کیونکہ آئی ایم ایف کا مطالبہ یہی ہوتا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے۔ گزشتہ دنوں حکومت نے ارادہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کچھ ریلیف دے کر عوام کو فائدہ پہنچایا جائے لیکن آئی ایم ایف کی کچھ شرائط کے باعث حکومت ایسا نہ کر سکی، لہٰذا یہ یوم آزادی ایک بار پھر یہ پیغام دے رہا ہے کہ جب تک قوم کا کشکول غیروں کے سامنے پھیلا رہے گا، اس وقت تک آزادی کا تصور ادھورا ہی رہتا ہے۔

 حکومت نے طویل المدتی معاشی پروگرام کے تحت ’’اڑان پاکستان‘‘ کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد برآمدات پر مبنی نمو کو فروغ دینا تھا، لیکن یہ اڑان مہنگائی کی اڑان میں بدل چکی ہے اس کے ساتھ ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں نے بھی اپنی اڑان ایسی دکھائی کہ عوام کے ہوش گم ہو کر رہ گئے ہیں، البتہ حکومت نے ٹیکس نیٹ ورک کو وسیع کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اس کے لیے کچھ اصلاحی اقدامات بھی کیے ہیں، اگر ٹیکس میں رچ بس جانے والی کرپشن کا خاتمہ ہو جائے تو ٹیکس آمدن میں بے حد اضافہ ہو جائے گا، لیکن معیشت کے ہر شعبے میں جس طرح سے کرپشن نے مضبوطی سے اپنے ڈیرے جما لیے ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ دیگر اہداف کے ساتھ اس بات کو ترجیح دی جائے کہ کس طرح سے جلد از جلد کرپشن فری پاکستان بن جائے۔

روایتی شعبوں سے ہٹ کر ڈیجیٹل سروسز، فری لانسنگ اور زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اور سرمایہ کاری کی جائے تاکہ فی ایکڑ پیداوار دیگر ملکوں کی طرح ہم بھی زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے والے بن جائیں۔ فی الحال ایک راستہ قرض سے نجات دلانے والا نظر آ رہا ہے کہ ملکی زراعت کو جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی خطوط پر استوار کیا جائے۔ کسانوں کو اپنی پیداوار کی صحیح قیمت دلوانے کے لیے درمیانی لوگوں کے اثر و رسوخ سے باہر نکالا جائے۔

حال ہی میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ایک ضلع کے بارے میں بتایا گیا کہ وہاں پر تمباکو کی فصل کے دام انتہائی کم ترین ملنے کے باعث تمباکو کے کسانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ صوبائی حکومت اس مسئلے کا جائزہ لے اور اگر اطلاع درست ہے تو کسانوں کو ان کا حق دلوایا جائے، کیونکہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ کسانوں کا اعتماد بحال ہو۔ حکومت ان کو ان کے جائز مالی مطالبات پورا کرنے میں ہر طرح کے تعاون کے لیے حاضر ہو۔ جب پاکستان مٹی کے سونے زراعت اور نوجوانوں کے ڈیجیٹل ترقی کو یکجا کرکے بیرونی سہاروں کے بغیر اپنے پیروں پر کھڑا ہوگا تب ہی ہم کہہ سکیں گے کہ ہم نے حقیقی معاشی اور سیاسی آزادی حاصل کر لی ہے۔ کیونکہ ملکی معیشت اب بھی بیرونی قرضوں، امداد، ترسیلات زر پر انحصار کرتی ہے۔ اس طرح مکمل معاشی آزادی کا ہدف فی الحال دور ہی ہے کیونکہ برآمدات کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ گزشتہ مالی سال کی برآمدات کے حجم میں کمی آئی ہے، کیونکہ توانائی کی قیمت اور ملکی پیداواری لاگت میں اضافے نے برآمدات میں اضافے کو شدید ترین مشکل حالات میں ڈال دیا ہے۔

اگرچہ حکومت مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ برآمدات میں اضافہ ہو لیکن اس اضافے میں اب بیرونی حادثات بھی اپنا مکمل اثر و رسوخ دکھا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر توانائی کی قیمت بڑھ رہی ہے اور ملکی سطح پر توانائی کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی کساد بازاری اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ عالمی سطح پر چند سال قبل کورونا 19 کے دوران جس طرح کی کساد بازاری کا سامنا تھا آج اس سے بدتر حالات ہو چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے حالات، روس یوکرین جنگ میں شدت اور دیگر معاملات کے باعث ہر ملک کی درآمدات اور برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بہرحال دنیا امید پر قائم ہے۔ پاکستان کو اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے معاشی آزادی کا ہدف حاصل کرنا ہوگا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ