اسلام آباد: بلوچستان لبریشن آرمی کے پرچم میں ہلال اور ستارے کی عدم موجودگی نے تنظیم کی نظریاتی شناخت اور تاریخی بلوچ ریاستوں کے پرچموں سے اس کے فرق کو نمایاں کردیا ہے۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق سابق ریاستِ قلات کے پرچم میں سرخ اور سبز رنگوں کے ساتھ سفید ہلال اور ستارہ نمایاں تھے جب کہ اسلامی عبارتیں بھی پرچم کا حصہ تھیں۔

رپورٹ کے مطابق بی ایل اے کے پرچم میں ہلال کو ہٹاکر پانچ کونوں والا ستارہ رکھا گیا جسے تنظیم سے منسوب پانچ مبینہ مقاصد کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پرچم کے ڈیزائن میں یہ تبدیلی بھارتی خفیہ ایجنسی را اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی جانب سے کی گئی۔
رپورٹ میں بی ایل اے سے منسوب پانچ مقاصد بھی بیان کیے گئے ہیں جن میں چینی سرمایہ کاری اور تزویراتی منصوبوں میں خلل ڈالنا، بیرونی تنازع کے دوران پاکستان کے اندر محاذ کھولنا، بلوچستان کے معاملے کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنا، اہم بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے راستوں کو نشانہ بنانا اور تشہیری مہم کے ذریعے پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانا شامل ہیں۔
خیال رہے کہ تاریخی بلوچ ریاستوں، بالخصوص قلات کے پرچم میں ہلال اور ستارہ اسلامی شناخت کی علامت کے طور پر موجود تھے جب کہ بی ایل اے نے اپنے پرچم میں اس علامت کو شامل نہیں کیا۔
ہلال کا خاتمہ تاریخی بلوچ ریاستوں سے وابستہ اسلامی علامتوں کو ختم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
یاد رہے کہ بی ایل اے کے زیر اثر علاقوں میں سیکولر رجحانات نمایاں ہیں اور تنظیم اپنے بیان کردہ پانچ مقاصد پر عمل پیرا ہے۔
واضح رہے کہ تنظیم کا پرچم اس کے علیحدگی پسند نظریے کی نمائندگی کرتا ہے اور پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں اس کی نظریاتی شناخت کو ظاہر کرتا ہے۔

