اسکول کا معائنہ کرنے گئے سی جے پی کارکن کے والد کا قتل، بی جے پی رہنما سمیت آٹھ گرفتار

west bengal hafiz father death


کاکروچ جنتا پارٹی کی’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کے تحت سی جے پی کارکن حافظ کریشونڈا پشچم پاڑہ پرائمری اسکول  گئے تھے اور اسکول کی بنیادی سہولیات سے متعلق کچھ سوال کیے تھے، جس کی اطلاع مقامی بی جے پی کارکنوں کو مل گئی۔ الزام ہے کہ اس کے بعد بی جے پی  حامیوں کے ایک گروپ نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی، جہاں انہیں بچانے کی کوشش میں ان کے والد شدید زخمی ہوگئے، جس کے بعد ان کی موت ہوگئی۔

west bengal hafiz father death

16 اگست کو بردوان میڈیکل کالج میں ایس ایف آئی کے ارکان کے ساتھ عبدالحافظ۔ (تصویر: دیبنجن ڈے)

کولکاتہ: مغربی بنگال کے بانکوڑہ ضلع میں ایک اسکول کا معائنہ کرنے گئے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے کارکن عبدالحافظ کے گھر پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا، جس میں ان کے 46 سالہ والد شیخ محمد مافق کی موت ہوگئی۔

پولیس نے اس معاملے میں مقامی بی جے پی رہنما اور بوتھ صدر سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

یہ واقعہ کریشونڈا گاؤں کا ہے، جو انداس تھانہ حلقہ کے تحت آتا ہے۔ خاندان کا الزام ہے کہ 15 اگست کی رات لاٹھی اور لوہے کی راڈ سے لیس افراد کے ایک گروپ نے ان کے گھر پر حملہ کیا۔ حملہ آوروں سے حافظ کو بچانے کی کوشش میں ان کے والد مافق شدید زخمی ہوگئے۔ بعد میں علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔

اسکول میں بچوں کے مسائل جاننے گئے تھے حافظ

قابل ذکر ہے کہ27 سالہ حافظ 13 اگست کو کریشونڈا پشچم پاڑہ پرائمری اسکول گئے تھے۔ وہ سی جے پی کی ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کے تحت اسکول پہنچے تھے۔ اس مہم کے تحت پارٹی کے کارکن اسکولوں کا دورہ کرکے اساتذہ اور مقامی لوگوں سے بات چیت کر رہے ہیں اور اسکولوں سے متعلق مسائل کودرج کر رہے ہیں۔

بنگال میں سی جے پی کی رکن دیبی پرا گانگولی کے مطابق، حافظ نے اسکول میں ایک استاد سے پوچھا تھا کہ کیا بچوں کو ٹوائلٹ اور پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولیات کے حوالے سے کوئی پریشانی تو نہیں ہے۔ انہوں نے اسکول میں مہم شروع کرنے کے لیے اجازت بھی مانگی تھی۔

حافظ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ ایک استاد، غالباً اسکول کے ہیڈ ماسٹر کاشی ناتھ ڈے، نے انہیں اگلے دن ملاقات کا وقت دیا تھا۔ اس کے بعد مبینہ طور پر مقامی بی جے پی کارکنوں کو اس کی اطلاع مل گئی۔

حافظ نے ایک ویڈیو پیغام میں الزام لگایا کہ رات تقریباً آٹھ بجے بی جے پی حامیوں کا ایک گروپ لاٹھی، لوہے کی راڈ اور سریوں کے ساتھ ان کے گھر پہنچا اور ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

مقامی لوگوں کے مطابق، حملہ آوروں نے مبینہ طور پر حافظ کا فون چھین لیا اور اسکول میں ان کی جانب سے کھینچی گئی تصویریں اور بنائے گئے ویڈیو ڈیلیٹ کر  دیے۔

بیٹے کو بچانے کی کوشش  کر رہے باپ پر حملہ

موقع پر پہنچے ایک کارکن کے مطابق، حملہ آوروں سے اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے مافق گھر سے باہر آئے تھے۔ اس کے بعد حملہ آوروں نے مبینہ طور پر انہیں بھی لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے پیٹا۔ شدید طور پر زخمی مافق کو پولیس نے انداس بلاک پرائمری ہیلتھ سینٹر پہنچایا۔

حالت بگڑنے پر انہیں 15 اگست کو بردوان میڈیکل کالج اور اسپتال لے جایا گیا، جہاں اسی رات ان کی موت ہوگئی۔

سی جے پی کے بنگال رکن دیبی پرا گانگولی نے الزام لگایا کہ مافق کے قتل کے پیچھے سیاسی مقصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ حافظ 19 جولائی کو سی جے پی کے احتجاج میں شامل ہونے  دہلی گئے تھے اور واپسی کے بعد سے انہیں دھمکیاں مل رہی تھیں۔

تاہم، ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

آٹھ افراد گرفتار

مافق کی اہلیہ حسینہ بیگم نے 16 اگست کی دوپہر انداس تھانے میں شکایت درج کرائی۔ شکایت میں 10 سے 15 افراد کے خلاف الزامات عائد کیے گئے اور پانچ افراد کے نام دیے گئے۔

پولیس نے شیخ آزاد، شری کانت ماجھی، پرشانت روئیداس، روہت ماجھی، بابلو ماجھی، سنتو ماجھی، ٹنکو کیورا اور اشٹم ماجھی کو گرفتار کیا ہے۔ مقامی لوگوں نے اشٹم ماجھی کی شناخت بی جے پی رہنما اور بوتھ صدر کے طور پر کی ہے۔

تمام ملزموں کو بشنوپور سب ڈویژنل عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے ان کی حراست کی مانگ کی ہے۔

پولیس کے مطابق، معاملے میں شامل دیگر ملزموں کی تلاش جاری ہے۔

اس سلسلے میں بانکوڑہ کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کرشنانو رائے نے کہا، ’ہمیں اتوار کی دوپہر شکایت ملی تھی۔ شکایت موصول ہونے کے بعد واقعہ سے متعلق آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جانچ شروع کردی گئی ہے اور دیگر ملزموں کی تلاش میں چھاپے ماری کی  جا رہی ہے ۔‘

سی جے پی نے احتجاج کا اعلان کیا

سی جے پی رہنما ابھجیت دیپکے نے ایکس پر کہا کہ حافظ اسی اسکول کا معائنہ کرنے گئے تھے، جہاں انہوں نے خود پڑھائی کی تھی۔ انہوں نے اسکولوں کے بہتر انتظامات کا مطالبہ کرنے والوں کے قتل پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

اس سلسلے میں سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا کی قیادت میں سی جے پی کی ایک ٹیم انداس جاکر حافظ سے ملاقات کرنے والی ہے۔ وہیں، طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) نے قتل کے خلاف ریاست گیر احتجاج کی اپیل کی ہے۔

اس معاملے پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے درمیان بی جے پی نے ملزموں سے خود کو الگ کرلیا ہے۔

وزیراعلیٰ سویندو ادھیکاری نے کہا کہ ملزمین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ ہوں۔

انہوں نے کہا،’اس کا بی جے پی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ سبھی مجرم ہیں۔ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ