شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی کی پاکستانی ہم منصب سے ملاقات

397829 1027361397


نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے اسلام آباد میں شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور شام کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کی تجدید کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر علاقائی صورت حال پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔

شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی بدھ کی شب دیر گئے پاکستانی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اسلام آباد پہنچ تھے۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ گذشتہ 19 برسوں میں کسی بھی شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی صنعا نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان کا یہ دورہ 19 برسوں میں کسی شامی وزیر خارجہ کا پہلا دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ’دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور رابطوں کو مضبوط بنانے‘ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شامی وزیر خارجہ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جعمرات کو ایران کے خلاف ’اب تک کی سب سے بڑی معاشی کارروائی‘ کرنے کا اعلان کیا ہے، دوسری جانب ایران کی مسلح افواج نے بدھ کو خلیجی ممالک کو امریکی فوجی کارروائیوں میں مدد فراہم کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنا امریکی فوجی آپریشن میں شمولیت کے مترادف ہوگا۔

مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف علی عبداللہی نے کہا: ’ہم خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ جارح امریکی فوج کو فراہم کی جانے والی کسی بھی قسم کی مدد یا سہولت امریکی فوجی آپریشن میں شرکت کے مترادف ہوگی۔‘

دمشق کے ایک سفارتی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اسعد الشیبانی پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ وزیر دفاع اور وزیر تجارت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

اے ایف پی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دورے کے دوران دفاع، اقتصادی تعاون اور مفاہمت سمیت متعدد امور پر بات چیت متوقع ہے۔

ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ دورہ پاکستان اور شام کے درمیان دوطرفہ تعاون کے لیے ’تاریخی‘ ثابت ہوگا۔

پاکستان اور شام کے تعلقات

بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے سے قبل پاکستان اور شام کے درمیان قریبی تعلقات رہے ہیں، جنہیں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے باہمی دوروں، سیاسی اور عسکری تعاون اور تربیتی تبادلوں سے تقویت ملتی رہی۔

اے ایف پی کے مطابق2011 میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد پاکستان نے غیر ملکی فوجی مداخلت اور طاقت کے ذریعے بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کی کوششوں کی مخالفت کی تھی اور شام کی وحدت اور خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔

اسلام آباد نے شام کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے اور دمشق میں پاکستانی سفارت خانہ بھی کھلا رہا۔ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی پاکستان نے شام میں اپنی سفارتی نمائندگی برقرار رکھی۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق موجودہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ