امریکہ کی اقتصادی کارروائی، ایران کی سخت تنقید اور ہتھیاروں کی دھمکی


ایران نے امریکہ کے خلاف اعلان کردہ “کچلنے والی معاشی کارروائی” کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے امریکی معاشی بحران سے توجہ ہٹانے کی سازش قرار دیا ہے۔ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ٹویٹر نما پیغام میں کہا کہ یہ “معاشی دہشت گردی” عالمی معیشت اور ریاستوں کی خودمختاری کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ عراقچی نے امریکی قومی قرض کے بڑھتے ہوئے حجم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نام نہاد اقتصادی جنگ دراصل داخلی بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایران کے خلاف “غیر معمولی پیمانے پر معاشی جنگ اور تنہائی” کا اعلان کیا، جس پر ایران کے اندر سخت ردعمل سامنے آیا۔ ایران کی نیم فوجی طاقت قدس فورس اور پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بھڑکی تو وہ “زیادہ درست اور زیادہ تباہ کن” ہتھیار استعمال کریں گے۔ پاسداران کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ایران اپنی فوجی صلاحیتیں بہتر کر رہا ہے اور مستقبل میں استعمال ہونے والے وارہیڈ گزشتہ جھڑپوں میں دیکھی گئی ہتھیاروں سے “مکمل طور پر مختلف” ہوں گے — ممکنہ طور پر زیادہ درستگی اور طویل رینج والے میزائل شامل ہوں گے۔
بین الاقوامی ردعمل میں چین نے امریکہ کے اعلان کی مذمت کی اور کہا کہ مزید پابندیاں کسی حل کی طرف نہیں لے جائیں گی۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ بیجنگ معاملات کو سفارتی اور سیاسی ذرائع سے حل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کا عالمی تیل مارکیٹ اور چین کی توانائی رسد پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق چین ایران کے خام تیل کی بڑی مقدار کا خریدار رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ