عدالتی حکم کے باوجود نجی ہپستال کی بجائے عمران خان کو پمز لایا گیا: بہن

397860 1109663839


عمران خان کی بہن عظمٰی خانم اور ڈاکٹر فیصل سلطان نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کو راتوں رات اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ان کے ذاتی معالج پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ نجی ہسپتال میں ان کے انتظار میں رہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے منگل کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ماہرین کے ایک میڈیکل بورڈ کے ذریعے ان کا معائنہ اور علاج کیا جا سکے، جس میں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان بھی شامل ہوں۔

تاہم، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے جمعہ کو تصدیق کی کہ عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے شفا کی بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا، جس کی وجہ انہوں نے شفا کے اطراف سکیورٹی خدشات کو قرار دیا۔

عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم، جو پمز میں ان کے ساتھ موجود تھیں، نے کہا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ عمران خان کو کہاں لایا گیا ہے تو انہوں نے حکام سے سوال کیا۔

عظمیٰ خانم نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا، ’میں نے کہا، انہیں یہاں کون لایا؟ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ انہیں شفا انٹرنیشنل لے جایا جائے۔‘

عظمیٰ خانم کے مطابق پمز کے ڈاکٹروں نے عمران خان کی دائیں آنکھ کا معائنہ کیا، ایک انجیکشن لگایا اور ایک اور ٹیسٹ کیا جس سے معلوم ہوا کہ معمولی خون رساؤ (ہیمریج) اب بھی موجود ہے۔

عمران خان اس سے پہلے بھی اپنی دائیں آنکھ میں ’سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن‘ کے علاج کے لیے پمز میں زیر علاج رہ چکے ہیں، جو بصارت کو متاثر کر سکتی ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پولیس انہیں ایک علیحدہ گاڑی میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے گئی، جہاں وہ تقریباً تین گھنٹے تک عمران خان کے پہنچنے کے انتظار میں رہے۔

فیصل سلطان نے صحافیوں کو بتایا، جب صبح کے تقریباً 4:15 سے 4:30 بج رہے تھے تو انہوں نے مجھے بتایا ’ڈاکٹر، لگتا ہے کہ وہ نہیں آئیں گے، اور شاید واپس جا چکے ہیں۔ آپ بھی واپس چلے جائیں۔‘

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ عمران خان کو شفا کے بجائے پمز اس لیے لے جایا گیا کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے نجی ہسپتال اور اس تک جانے والے راستے پر پیدا ہونے والی ’سکیورٹی صورت حال‘ کے باعث خدشات موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا جس میں ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور ایک معالج شامل تھے، اور انہیں ’طبی طور پر مکمل فٹ‘ قرار دیا گیا۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق، ’اس پورے عمل کی تکمیل کے بعد انہیں 21 اگست 2026 کی صبح تقریباً 5 بجے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومت پہلے ہی سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کر چکی تھی۔ حکومت کا موقف تھا کہ کسی سزا یافتہ قیدی کو مخصوص نجی ہسپتال میں علاج کی اجازت دینے سے دیگر قیدی بھی اسی نوعیت کی سہولت کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ تاہم عدالت کے رجسٹرار آفس نے جمعرات کو درخواست بعض اعتراضات لگا کر اسے واپس کر دیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کو مسلسل مناسب طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور وہ ان الزامات کو مسترد کرتی ہے کہ ان کے حقوق سلب کیے گئے یا انہیں مناسب علاج نہیں ملا۔

رات کے وقت عمران خان کی منتقلی نے عوامی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی کیونکہ 73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں قید ہونے کے باوجود ان کا شمارت پاکستان کی مقبول ترین سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے۔

سابق کرکٹر عمران خان 2018 سے اپریل 2022 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے، جب انہیں پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی حکومت کے آخری دور میں پاکستان کی طاقتور فوج کے ساتھ ان کے تعلقات شدید کشیدہ ہو گئے تھے، اور بعد ازاں انہوں نے فوج اور اپنے سیاسی مخالفین پر اپنی برطرفی اور قید کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا۔ فوج اور ان کے مخالفین ان الزامات کی تردید کرتے ہیں، جبکہ فوج کا کہنا ہے کہ وہ سیاست میں مداخلت نہیں کرتی۔





Source link

متعلقہ پوسٹ