صحافی ابھشیک اپادھیائے نے الزام لگایا ہے کہ غازی آباد پولیس انہیں اور ان کے اہل خانہ کو پریشان کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس دیر رات ان کے گھر پہنچی، جبکہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات اور درج ایف آئی آر کی مکمل جانکاری انہیں ٹھیک سے نہیں دی جا رہی ہے۔ اپادھیائے ان صحافیوں میں ہیں، جو ایودھیا رام مندر میں بدعنوانی اور چڑھاوا چوری کے الزامات کو سامنے لائے تھے۔
ابھشیک اپادھیائے۔ (تصویر: ویڈیو سے لیا گیا اسکرین گریب)
نئی دہلی: صحافی ابھشیک اپادھیائے نے الزام لگایا ہے کہ غازی آباد پولیس انہیں اور ان کے خاندان کو پریشان کر رہی ہے۔ 21 اگست کو ایکس پر ایک پوسٹ میں اپادھیائے نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکار ان کے گھر پہنچے اور ان کے اہل خانہ سے پوچھ گچھ کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورے انہیں مسلسل پریشان کیے جانے کے سلسلے کا حصہ ہیں۔
غور طلب ہے کہ اپادھیائے ان چندصحافیوں میں ہیں، جو ایودھیا رام مندر میں بدعنوانی اور چڑھاوا چوری کے الزامات کو سامنے لائے تھے۔ ان کی خبروں پر خوب باتیں ہوئی تھیں۔ اس کے بعد یہ معاملہ ملک بھر کی سرخیوں میں آیا، استعفے ہوئے اور ایس آئی ٹی نے معاملے کی جانچ شروع کی۔
بعد کی ایک پوسٹ میں اپادھیائے نے غازی آباد پولیس پر ان کے خلاف درج ایف آئی آر کی کاپی فراہم نہیں کرانے کا الزام لگایا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات سے بار بار ایف آئی آر کی کاپی مانگنے کے باوجود ایک پولیس افسر نے انہیں ایک ایسا صفحہ بھیجا جس میں نہ تو عائد کی گئی قانونی دفعات کا ذکر تھا اور نہ ہی مبینہ جرم کی کوئی تفصیل۔ بعد میں پولیس نے انہیں لکھنؤ میں ان کے خلاف درج ایک پرانی ایف آئی آر کی کاپی بھیج دی۔
اپادھیائے نے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس جان بوجھ کر ایسا کر رہی ہے تاکہ انہیں یہ پتہ نہ چل سکے کہ دیر رات ان کے گھر پہنچنے والے پولیس اہلکار انہیں کن الزامات کے تحت حراست میں لینے آئے تھے۔
دی وائر سے بات چیت میں اپادھیائے نے ایک پرانی ایف آئی آر کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’اس میں یوگی آدتیہ ناتھ کو ’ایشور‘ اور مجھے غیر ملکی فنڈ دینے والوں کا ایجنٹ بتایا گیا تھا۔ ایسا لگتا ہے جیسے ان کے خلاف کوئی کچھ لکھ یا بول ہی نہیں سکتا۔‘
اپادھیائے نے الزام لگایا کہ پولیس قانونی اور آئینی تحفظ کے عمل کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے دی وائر سے کہا، ’میں نے 7 جون کو رام مندر میں چوری کی خبر سامنے لائی تھی۔ اس وقت سے میرے خلاف شکایتیں اور ایف آئی آر درج ہونا روزمرہ کی بات ہوگئی ہے۔ میں ان کی بدعنوانی کو بے نقاب کر رہا ہوں، یہی ان کی پریشانی ہے۔ ہندو مسلم سیاست کی آڑ میں اتر پردیش میں سرکاری محکموں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے۔‘
اپادھیائے نے غازی آباد پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر انہیں ایف آئی آر کی مکمل کاپی نہیں دیے جانے کے الزام کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے کہا، ’دستاویز مانگنے کے بعد مجھے پہلے اندراپورم تھانے میں درج ایف آئی آر کا صرف ایک صفحہ بھیجا گیا۔ اس میں نہ تو عائد کی گئی قانونی دفعات کا ذکر تھا اور نہ ہی مبینہ واقعہ کی تفصیلات۔‘
انہوں نے الزام لگایا کہ جب انہوں نے مکمل ایف آئی آر مانگی تو پولیس نے اس کے بجائے 2025 میں گورکھپور میں ان کے خلاف درج ایک الگ معاملے کا صفحہ بھیج دیا۔ یہ معاملہ ایک نیٹ طالبعلم کی موت سے متعلق ان کی رپورٹنگ سے وابستہ تھا۔
اپادھیائے نے الزام لگایا کہ پولیس نے دو الگ الگ ایف آئی آر کے صفحات کو آپس میں ملا دیا اور غازی آباد والے معاملے کی مکمل ایف آئی آر اب بھی انہیں نہیں دی گئی۔ انہوں نے افسران پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ انہیں رات کے وقت حراست میں لینے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ انہیں الزامات کی صحیح معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔ انہوں نے اس کارروائی کو حال ہی میں اتر پردیش حکومت سے متعلق چندے کی مبینہ چوری اور دیگر معاملات پر کی گئی اپنی رپورٹنگ سے جوڑا۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران اپادھیائے کے یوٹیوب چینل ٹاپ سیکریٹ پر بااثر سیاسی اور مذہبی شخصیات، خصوصی طور پر اتر پردیش سے متعلق کئی رپورٹس شائع ہوئی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی رقم کے انتظام میں مبینہ چوری اور بے ضابطگیوں سے متعلق رپورٹس تھیں۔ انہوں نے مندر میں چڑھاوے کی رقم کی گنتی سے وابستہ سابق ملازمین کے انٹرویوز بھی کیے تھے۔ ان کی رپورٹس میں لگائے گئے الزامات کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع ہوئیں اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔
اپادھیائے نے اپنے چینل کے ذریعے سیاسی طور پر بااثر افراد اور اداروں کی بھی تحقیقات کی ہیں۔ ان میں اتر پردیش پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ(پی ڈبلیو ڈی) اور دیگر سرکاری محکموں میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق رپورٹس شامل ہیں، جن پر کافی باتیں ہوئیں اور سوال اٹھے۔
اپادھیائے نے اگست 2024 میں اپنا یوٹیوب چینل شروع کیا تھا۔ ستمبر 2024 میں انہیں پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت انہوں نے ایک رپورٹ اور متعدد پوسٹ شائع کیے تھیے،جن میں آدتیہ ناتھ حکومت میں اتر پردیش حکومت کے اہم عہدوں پر ٹھاکر افسران کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر سوال اٹھائے گئے تھے۔
سال 2024 میں لکھنؤ کے حضرت گنج تھانے میں اپادھیائے اور صحافی ممتا ترپاٹھی کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ یہ ایف آئی آر آزاد صحافی پنکج کمار کی شکایت پر درج ہوئی تھی۔ انہوں نے دونوں پر’جھوٹی، بے بنیاد اور گمراہ کن معلومات‘ شائع کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا تھا۔
اس کے بعد اپادھیائے نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ ایف آئی آر ان کی صحافت کی وجہ سے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ ان کے خلاف مزید فوجداری مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 4 اکتوبر 2024 کو سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ اس ایف آئی آر کے سلسلے میں اپادھیائے کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے کہا تھا کہ محض اس بنیاد پر کہ کسی صحافی کی تحریر کو حکومت پر تنقید کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس کے خلاف فوجداری مقدمہ درج نہیں کیا جانا چاہیے۔
اپادھیائے کے خلاف درج اس ایف آئی آر نے اتر پردیش میں صحافیوں کے خلاف فوجداری قانون کے استعمال کو لے کر تشویش پیدا کی تھی۔ اس وقت اپادھیائے نے کہا تھا کہ یہ معاملہ صحافیوں کو سوال پوچھنے اور ایسی خبروں پر کام کرنے سے روکنے کے لیے ڈرانے کی کوشش ہے۔
اپادھیائے کے مطابق، سپریم کورٹ کی مداخلت کے باوجود ان پر دباؤ جاری ہے۔
دی وائر نے اپادھیائے کے الزامات پر غازی آباد پولیس کا مؤقف جاننے کے لیے اس سے رابطہ کیا ہے۔ پولیس کی جانب سے جواب موصول ہونے پر اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

