
(ویب ڈیسک ) امریکا کے سب سے بڑے بجلی کے گرڈ پی جے ایم میں بجلی کی ترسیل کی رکاوٹوں اور ہائی وولٹیج لائنوں پر بڑھتے دباؤ کے باعث رواں سال کی پہلی ششماہی میں اضافی لاگت 6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پی جے ایم آزاد مارکیٹ مانیٹر نے بتایا ہے کہ جنوری سے جون 2026 کے دوران ٹرانسمیشن کی رکاوٹوں سے متعلق اخراجات گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 43 فیصد بڑھ گئے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کی پہلی ششماہی میں یہ اخراجات تقریباً 2.1 ارب ڈالر تھے، جو رواں سال بڑھ کر 6 ارب ڈالر ہوگئے۔ یوں ایک سال کے دوران تقریباً 3.9 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا سے تجارتی مذاکرات معطل، اہم ملک کا بڑا اعلان
مارکیٹ مانیٹر کے مطابق شدید موسمی حالات اور طوفانوں جیسے دباؤ کے دوران ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنوں پر اضافی بوجھ اس اضافے کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی تھوک قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق اس اضافی لاگت کا بالآخر اثر صارفین کے ماہانہ بجلی کے بلوں پر پڑ سکتا ہے۔ امریکی بجلی کا نظام ایک ایسے وقت میں بڑھتی طلب کا سامنا کر رہا ہے جب ڈیٹا سینٹرز، الیکٹرک گاڑیوں اور ہیٹ پمپس کے استعمال میں تیزی آرہی ہے۔
مارکیٹ مانیٹر نے ایک اہم مسئلے کی بھی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق PJM بعض اوقات ٹرانسمیشن لائنوں کی دستیاب صلاحیت کو حقیقی صلاحیت سے کم تصور کرتا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 94 فیصد مواقع پر اضافی جرمانہ عائد ہونے کا امکان سامنے آیا ہے۔
قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے نے بھی بجلی کی لاگت بڑھانے میں کردار ادا کیا، تاہم رپورٹ کے مطابق ٹرانسمیشن رکاوٹوں سے پیدا ہونے والے اضافی اخراجات میں اضافہ قدرتی گیس کے ایندھن کے اخراجات میں تقریباً 2 ارب ڈالر کے اضافے سے بھی زیادہ رہا۔
PJM امریکا کا سب سے بڑا بجلی کا گرڈ ہے اور اس پر بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے ترسیلی نظام کی صلاحیت پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

