یہ ایک انتہائی دلچسپ بحث بن چکی ہے کہ کیا واقعی عورتیں مردوں سے زیادہ شکی القلب واقع ہوئی ہیں؟ کہتے ہیں عورت کی چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ مرد ابھی کسی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے کہ عورت کو اندازہ ہوچکا ہوتا ہے کہ ’دال میں کچھ کالا ہے۔‘
مرد اس اندازے کو شک کہتا ہے، عورت اسے تجربہ۔
اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ آج کل شادی شدہ زندگی کا ایک نہایت دلچسپ منظر عام ہوتا جا رہا ہے۔ شوہر کسی تقریب میں ہے، دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہے، کسی سفر پر ہے یا دفتر کی کسی محفل میں شریک ہے۔ اچانک موبائل کا کیمرہ کھلتا ہے اور بیوی کے سامنے پورا منظر پیش کر دیا جاتا ہے۔
’دیکھو، میں کہاں بیٹھا ہوں۔‘
پھر کیمرہ دائیں گھومتا ہے۔
’یہ فلاں صاحب ہیں۔‘
پھر بائیں۔
’یہ ان کی بیگم ہیں۔‘
پھر ذرا پیچھے کا منظر۔
’اور یہ باقی لوگ ہیں۔‘
اگر اتفاق سے کسی دوسری عورت کا چہرہ بھی نظر آجائے تو وضاحت فوراً:
’یہ یہاں کام کرتی ہیں۔‘
یوں شوہر خاوند کم اور اپنی بے گناہی کا چلتا پھرتا ثبوت زیادہ محسوس ہونے لگتا ہے۔
کبھی کبھی تو لگتا ہے مستقبل میں شادی کے ساتھ نکاح نامے کی بجائے روزانہ کی حاضری کا رجسٹر بھی دیا جائے گا۔
صبح: ’میں دفتر پہنچ گیا ہوں۔‘
دوپہر: ’میں ابھی دفتر میں ہوں۔‘
شام: ’میں گھر آرہا ہوں۔‘
اور رات: ’یہ آج کے پورے دن کی تصویری شہادت ہے، اب اطمینان سے سو جاؤ۔‘
مگر سوال یہ ہے کہ اگر عورت اتنی شکی ہے تو شوہر کو ہر لمحہ اپنی صفائی پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اور اگر شوہر واقعی اتنا قابل اعتماد ہے تو بیوی کو ہر چند گھنٹے بعد ثبوت کیوں چاہیے؟
اصل مسئلہ شاید عورت یا مرد نہیں، اعتماد ہے۔
اعتماد وہ عجیب دولت ہے جو ایک بار ٹوٹ جائے تو اسے دوبارہ بنانے میں برس لگ سکتے ہیں، مگر اسے توڑنے کے لیے کبھی کبھی ایک چھوٹا سا جھوٹ ہی کافی ہوتا ہے۔
ہماری سماجی تربیت بھی اس معاملے میں کچھ کم دلچسپ نہیں۔ مرد کو آزادی ملتی ہے، عورت کو احتیاط سکھائی جاتی ہے۔ مرد کی دوستیاں اکثر معمول سمجھی جاتی ہیں، عورت کی دوستیاں سوال بن جاتی ہیں۔ مرد رات گئے گھر آئے تو پوچھا جاتا ہے، ’کہاں تھے؟‘ عورت دیر سے آئے تو پورا خاندان اپنی اپنی عدالت لگا لیتا ہے۔
پھر جب یہ ہی عورت شادی کے بعد شوہر سے وضاحت مانگتی ہے تو ہم حیران ہوتے ہیں کہ وہ اتنی شکی کیوں ہے۔ یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص کو برسوں اندھیرے میں رکھا جائے اور پھر اچانک اس سے کہا جائے: ’تمہیں روشنی پر اعتبار کیوں نہیں؟‘ لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی ہے۔
ہر شک درست نہیں ہوتا۔
کچھ خواتین واقعی اپنے خوف، ماضی کے تلخ تجربات یا عدم تحفظ کی وجہ سے ایسے خطرات بھی دیکھ لیتی ہیں جہاں کوئی خطرہ موجود نہیں ہوتا۔ شوہر دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہو اور بیوی کو شک ہو کہ ضرور کسی عورت کے ساتھ ہوگا۔ شوہر فون نہ اٹھائے تو خیال آتا ہے کہ ضرور کچھ چھپا رہا ہے۔ شوہر کسی خاتون سے بات کرے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی خوشی سے کیوں بات کر رہا تھا؟
یہاں شک حقیقت سے زیادہ تخیل کا کھیل بن جاتا ہے۔ اور انسانی ذہن کی سب سے خطرناک خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے خدشات کے حق میں ثبوت بھی خود پیدا کر لیتا ہے۔
’اس نے فون کیوں نہیں اٹھایا؟
’ضرور کسی کے ساتھ ہوگی۔‘
’اس نے پیغام کا جواب دیر سے کیوں دیا؟‘
’ضرور کچھ چھپا رہی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’اس نے آج نئے کپڑے کیوں پہنے؟‘
’ضرور کہیں جانا ہے۔‘
اور اگر وہ کہہ دے کہ ’آج گھر ہی رہوں گی‘ تو فوراً اگلا سوال، ’پھر نئے کپڑے کیوں پہنے؟‘
یوں بے چارے کپڑے بھی ازدواجی تفتیش میں ملزم بن جاتے ہیں۔
مگر انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر شک کو عورت کی کمزوری کہہ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔ بعض مرد واقعی اپنی بیویوں کو شک کرنے کی مکمل تربیت دیتے ہیں۔
فون چھپا کر رکھیں گے۔
پاس ورڈ نہیں بتائیں گے۔
گھنٹوں غائب رہیں گے۔
پوچھنے پر غصہ کریں گے۔
پھر بڑے اعتماد سے کہیں گے۔
’تم بہت شکی ہو۔‘
یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص گھر کا دروازہ کھلا چھوڑ دے اور چوری کے بعد گھر والوں کو نصیحت کرے کہ تمہیں خوف کم کرنا چاہیے۔ اعتماد صرف الفاظ سے پیدا نہیں ہوتا۔ اعتماد مسلسل رویے سے پیدا ہوتا ہے۔
اگر ایک شخص شفاف، مستقل مزاج اور وفادار ہے تو وقت کے ساتھ شک کم ہوتا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کے رویے میں تضاد ہو، باتیں چھپائی جائیں، جھوٹ پکڑے جائیں اور ہر سوال پر غصہ کیا جائے تو پھر ’مجھ پر اعتماد کرو‘ ایک دلیل نہیں رہتی۔ لیکن اس کے باوجود یہ بھی درست ہے کہ کسی رشتے کو مسلسل نگرانی میں رکھنا صحت مند محبت نہیں۔
میاں بیوی ایک دوسرے کے شریک حیات ہیں، تفتیشی افسر نہیں۔ محبت میں سوال ہو سکتے ہیں، لیکن ہر سوال کے ساتھ ثبوت مانگنا محبت کو تھکا دیتا ہے۔
آج تصویر چاہیے۔ کل ویڈیو۔ پرسوں جگہ کا پتا۔ اس کے بعد ہر پانچ منٹ بعد اطلاع۔
پھر شاید ایک دن شادی شدہ مردوں کے لیے باقاعدہ حکم جاری ہو: ’محترم شوہر صاحب، آپ کی بیوی کی اجازت کے بغیر تین گھنٹے سے زیادہ غائب رہنے پر وضاحت طلب کی جائے گی۔‘
اور شوہر کہیں گے: ’میں تو صرف دوستوں کے ساتھ چائے پینے گیا تھا۔‘
جواب آئے گا: ’چائے کے کپ کی تصویر بھیجیں۔‘
ہم ہنس سکتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج کی ٹیکنالوجی نے اعتماد کے مسئلے کو آسان کرنے کی بجائے کبھی مزید پیچیدہ کر دیتی ہے۔
پہلے شوہر دیر سے آتا تھا تو بیوی پوچھتی تھی کہ ’کہاں تھے؟‘
اب پوچھا جاتا ہے: ’آپ وہاں کیوں تھے؟‘
پھر؟ ’وہ کون تھی؟‘
پھر، ’اس نے آپ کو کیوں دیکھا؟‘
پھر،’آپ نے اسے کیوں دیکھا؟‘
اور آخر میں شاید سوال یہ ہو: ’جب وہ آپ کے پاس سے گزری تو آپ کے چہرے پر مسکراہٹ کیوں آئی؟‘
شوہر حیران ہوگا، ’میں تو چھینک رہا تھا!‘
ازدواجی زندگی کبھی کبھی واقعی بہت خطرناک عدالت بن جاتی ہے۔
لیکن اس عدالت میں صرف عورتیں جج نہیں ہوتیں۔ مرد بھی شک کرتے ہیں، نگرانی کرتے ہیں، سوال کرتے ہیں، فون دیکھتے ہیں اور خاموشی سے نتیجے اخذ کرتے ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ عورت کا شک اکثر زبان پر آ جاتا ہے، جبکہ مرد کا شک کبھی خاموشی، کبھی غصے، کبھی طنز اور کبھی بے وجہ پوچھ گچھ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
یعنی شک کی کوئی جنس نہیں ہوتی، صرف اس کے اظہار کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے محبت کو اعتماد کی بجائے ثبوت کا کھیل بنا دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں دوسرا شخص ہر وقت ثابت کرتا رہے کہ وہ وفادار ہے۔
حالانکہ وفاداری کا سب سے بڑا ثبوت یہ نہیں کہ انسان ہر وقت کیمرے کے سامنے موجود ہو۔اصل ثبوت یہ ہے کہ کیمرہ بند ہونے کے باوجود کردار وہی رہے۔ اصل وفاداری یہ ہے کہ شریک حیات موجود نہ ہو، کوئی دیکھنے والا نہ ہو، کوئی پوچھنے والا نہ ہو، پھر بھی انسان وہی کرے جو وہ اپنے شریک حیات کے سامنے کرنے میں شرمندہ نہ ہو۔
شاید ہمیں شادی میں ایک نیا اصول اپنانا چاہیے۔
ایک دوسرے کو ہر وقت دکھنے کی بجائے ایک دوسرے پر بھروسا کرنا سیکھیں۔ کیونکہ جس رشتے میں ہر شخص دوسرے کا نگران بن جائے، وہاں محبت آہستہ آہستہ قیدی بن جاتی ہے۔ اور جس دن میاں بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے کردار پر اعتماد ہوجائے، اس دن شاید شوہر کو دوستوں کی محفل سے بیوی کو تصویری ثبوت بھیجنے کی ضرورت نہ رہے۔
ورنہ خطرہ یہ ہے کہ ایک دن بیوی ویڈیو دیکھ کر کہے: ’اچھا، اب ذرا کیمرہ پیچھے کرو۔‘
شوہر کیمرہ پیچھے کرے گا۔ ’اور ذرا دائیں۔‘
دائیں کرے گا۔ ’اب بائیں۔‘
پھر بیوی کہے گی: ’ٹھیک ہے، اب یقین آگیا۔‘
اور شوہر سکون کا سانس لے گا۔ لیکن اگلا سوال فوراً آئے گا،’ویسے یہ ویڈیو آپ نے اتنی جلدی کیوں بند کردی؟‘
اور یوں بے چارے شوہر کو دوبارہ اپنی بےگناہی ثابت کرنے کے لیے کیمرہ کھولنا پڑے گا۔
آخرکار مسئلہ یہ نہیں کہ عورت زیادہ شکی ہے یا مرد زیادہ بے وفا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے محبت کو اتنا کمزور کردیا ہے کہ اب اسے ہر روز ثبوت درکار ہے؟
کیونکہ مضبوط رشتے میں شریک حیات کو ہر لمحہ یہ دکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ کہاں ہے۔ اس کے کردار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس کا ہے۔ اور شاید یہ ہی محبت کی سب سے خوبصورت تعریف ہے۔ جس کی غیر موجودگی میں بھی انسان کو اس کی وفاداری پر شک نہ ہو۔
باقی کیمرہ تو صرف منظر دکھاتا ہے۔ کردار انسان کا اصل چہرہ دکھاتا ہے۔



