
(24 نیوز)یوکرین کے صدر دیمیر زیلنسکی نے جنگ کے دوران انتخابات کو ملک کے لیے سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا ،یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ملک میں انتخابات کرانا انتہائی خطرناک ہو گا اور اس سے یوکرینی معاشرہ تقسیم ہو سکتا ہے۔
زیلنسکی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی جنگ میں انتخابات ایک بہت بڑا خطرہ ہیں، اس وقت انتخابات ملک کے لیے سونامی ثابت ہوں گے، جو یوکرین کو تقسیم کر دیں گے، یوکرین نے مارشل لا کے نفاذ کے تحت انتخابات معطل کر رکھے ہیں۔ ملک میں جنگ کے خاتمے تک انتخابات نہ کرانے کے فیصلے کو اب بھی عوام کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے۔
زیلنسکی کے مطابق اگر انتخابات کرانے کی طرف پیش قدمی کی گئی تو یہ ملک کو تباہ کرنے کے مترادف ہو گا،یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب زیلنسکی کے سابق وزیر دفاع میخائیلو فیدوروف نے رواں ہفتے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا تاہم انہوں نے انتخابات کے انعقاد کا کوئی واضح طریقہ کار پیش نہیں کیا۔
ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران انتخابات کرانے میں کئی بڑی رکاوٹیں ہیں، جن میں محاذ پر موجود فوجیوں، بیرونِ ملک موجود لاکھوں یوکرینی پناہ گزینوں اور روس کے زیر قبضہ علاقوں کے شہریوں کا ووٹ ڈالنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ روس کی جانب سے ممکنہ غلط معلومات اور انتخابی عمل میں مداخلت کا خطرہ بھی موجود ہے۔
کییف انسٹی ٹیوٹ آف سوشیالوجی کے ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 15 فیصد یوکرینی چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہونے سے پہلے انتخابات کرائے جائیں، زیلنسکی نے فیدوروف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود یا دوسروں کے دباؤ میں غلط سمت میں جا رہے ہیں۔
فیدوروف اصلاحات کے حامی رہے ہیں تاہم فوجی قیادت کے ساتھ ان کے اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں، یوکرین میں فیدوروف کی برطرفی کے بعد ہزاروں افراد نے احتجاج کیا تھا۔
زیلنسکی نے کہا کہ عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم فوج کے اہلکاروں کے بارے میں بے ادبی‘‘ سے گریز کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے اور فوج کے درمیان خلیج پیدا نہیں ہونی چاہئے۔زیلنسکی کے مطابق موجودہ حالات میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ سیاسی اختلافات یوکرینی معاشرے اور فوج کے درمیان مزید تقسیم کا باعث بن جائیں۔
یہ بھی پڑھیں :ایشین کرکٹ کونسل کے انتخابات میں پاکستانی پینل نے بھارتی پینل کو شکست دیدی

