اس وقت پوری دنیا کی بیناد دو نمبروں پہ ہے، زیرو اور ون۔
ہماری دنیا کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جس کے اندر رہتے ہوئے میں آپ سے بات کر رہا ہوں اور دوسری آف کورس وہ دنیا جو اس ڈیجیٹل پنے سے باہر کی ہے۔
اب میں اس کے اندر ہوں یا باہر، میں ایک، صفر یا صفر، ایک کے چکر سے باہر نہیں آ پا رہا۔
باہر ہوں تو اپنے پاس موجود ’ایک‘ کے ساتھ ’زیرو‘ بڑھانے کے لیے بھاگ رہا ہوں پاگلوں کی طرح، اندر ہوں تو خود وہ زیرو اور ایک مجھے ڈیٹا بنا کے میرا پوسٹ مارٹم کر رہے ہیں۔
میں خود کدھر ہوں؟
دیکھیں، اسے سمجھیں، ڈیجیٹل دنیا میں موجود ہر چیز کے پیچھے جڑوں میں بائنری لنگوئیج ہے یعنی تصویرہے، آواز، ویڈیو یا کوئی بھی ڈیٹا ہے، اس کے پیچھے آخرکار 0 اور 1 ہی چل رہے ہوتے ہیں۔
باہر نکلتے ہیں تو ہم لوگ پیسے کے چکر میں پڑ جاتے ہیں، وہ ہو گیا 1 کے ساتھ 0 بڑھاتے جانا، ٹھیک ہے؟
اب ایک اور چیز دیکھیں ۔۔۔ کمپیوٹر میں جو کچھ محفوظ ہے وہ bits کی شکل میں ہے، ایک بٹ کی ویلیو زیرو ہو سکتی ہے یا ون، وہی ساری بٹس مل کر ایک بائٹ بناتی ہیں، پھر ان سے میگا بائٹس بنتے ہیں۔
یعنی فلاں چیز اتنے ایم بی کی ہے، پھر جی بی پھر ٹی بی اور الاطول ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔
ٹیکنالوجی سے پہلے تک دنیا کی بنیاد پیسہ تھی، اکنامکس، یعنی ون کے ساتھ بڑھتے ہوئے زیرو، وہی لامتناہی دوڑ، سب کچھ اسی کے لیے تھا، سمجھ بھی آتی تھی ۔۔۔ اب یہ جو دوسرا والا زیرو، ون شروع ہوا ہے اس نے عاجز کر دیا ہے یار، اب ہر جگہ یہی ہے!
مجھے لگتا ہے میں فریم کے اندر لگی ہوئی تصویر ہوں۔ صبح ہوئی، اٹھا ۔۔۔ ایک دروازہ کھولا ۔۔۔ پہلا فریم، پہلا چوکھٹا، نہا دھو کے باہر آیا، دوسرے فریم سے نکل آیا، گاڑی میں بیٹھا ہوں، پھر سامنے چوکھٹا ہے، ونڈ سکرین، اس سے نکلا، اگلے فریم سے گزر کے ادھر آ گیا کام کرنے، کام پہ بیٹھا سامنے پھر ایک چوکھٹا ہے، کسی کا فون آیا، ایک اور فریم میں گھس گیا۔
رات ہوئی پھر ایک فریم سے باہر نکلا، دوسرے میں آیا، لیٹا ۔۔۔ اب پھر سامنے ایک اور فریم ہے جو موبائل ہے اور اسے دیکھنے کے لیے چشمے کا فریم ۔۔۔ فریم در فریم، سکرین در سکرین، چوکھٹ در چوکھٹ، دروازے پہ دروازہ ۔۔۔ اور سب میں ون، زیرو زیرو، ون، اس سب سے باہر کچھ موجود رہ گیا ہے؟
زیرو کو آف سمجھ لیں، ون کو آن سوئچ، کمپیوٹر کی طرح دنیا بھی زیرو اور ون کے درمیان کچھ نہیں جانتی، خالی زیرو مطلب آپ فل آف ہیں، فقٹے ہیں، فارغ ہیں، جب شروع میں ایک لگ گیا بس پھر بڑھاتے جائیں زیرو، آپ کی بھی گیم آن ہو گئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دنیا اب انہی دو ایبسولیوٹ خانوں میں بٹ چکی ہے۔
وہ انسان کو کیسے جانچتی ہے ۔۔۔ کامیاب یا ناکام؟ سچا یا جھوٹا؟ مصروف یا فارغ؟ موجود یا غیر موجود؟
امیر یا غریب، پیار یا نفرت، دوست یا دشمن بلکہ ڈیجیٹل میں بھی آن لائن یا آف لائن ۔۔۔ بھائی وٹس ایپ کا بلیو ٹک ڈس ایبل کرنے والوں تک کو دنیا گرے زون میں ڈال دیتی ہے، کدھر جائیں گے آپ؟ کچھ رہ گیا ہے درمیان میں؟
زندگی لیکن درمیان میں ہے، گرے میں ہے ۔۔۔ آپ آدمی ہیں، کمپیوٹر کے لیے زیرو ون کے بیچ کچھ نہیں ہوتا ہو گا، لیکن آپ کے، میرے لیے ہوتا ہے۔ بہت کچھ ہوتا ہے۔
ایک لمحہ ہوتا ہے جسے نہ محفوظ کیا جا سکتا ہے، نہ شیئر، نہ فارورڈ ۔۔۔ ایک خیال جو لفظ نہیں بنا ہوتا، خاموشی جسے کوئی ڈیٹا نہیں بنا سکتا، ایک ایسا رشتہ، جس کی کوئی ویلیو نہیں لگائی جا سکتی۔
تو مجھ کو بابا وہیں رہنا ہے، زیرو اور ون کے درمیان ۔۔۔ انتہاؤں سے پیچھے، جہاں میں کسی الگورتھم کا ڈیٹا نہ ہوں، بینک بیلنس میں بڑھتا ہوا ایک اور صفر نہ بنوں، سچا نہ ہوں، جھوٹا نہ ہوں، بس ’میں‘ ہوں ۔۔۔ اور رہوں ادھر!
شاید وہی خانہ ہو گا جس کے اندر میں فٹ ہو سکوں گا لیکن اسے بنائے گا کون ۔۔۔ ایک سوال یہ بھی ہے!

