پیرو میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک قدیم اہرام کے قریب سے ایک بالغ انسان کا ڈھانچہ دریافت کیا ہے۔
محققین کا خیال ہے کہ یہ شخص (جسے غالباً ایک مرد سمجھا جا رہا ہے) پیرو کے دارالحکومت لیما میں واقع مٹی کی اینٹوں سے بنے قدیم اہرام ہواکا پُکلّانا کے دامن میں بطور نذرانہ دفن کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق ممکنہ طور پر اسے ایک مذہبی رسم کے دوران قربان کیا گیا اور یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ایک نہر کو بند کیا جا رہا تھا جو ایک مقدس تالاب سے منسلک تھی۔
کھدائی کی سربراہ ماہرِ آثارِ قدیمہ گلیڈیز پاز نے کہا کہ یہ دریافت ماہرین کو لیما تہذیب کی رسومات کو سمجھنے اور صدیوں پہلے ادا کی جانے والی مذہبی تقریبات کی ازسرِنو تشکیل میں مدد دے گی۔
لاش کو اسی نہر کے اندر دفن کیا گیا تھا۔ اسے بائیں کروٹ لٹایا گیا تھا جبکہ اس کی کھوپڑی کا رخ اہرام اور بحرالکاہل کی جانب تھا۔
لیما تہذیب پیرو کے خشک وسطی ساحلی علاقے میں پہلی سے ساتویں صدی عیسوی کے دوران پروان چڑھی۔ یہ تہذیب انکا سلطنت کے عروج سے تقریباً 700 سال پہلے موجود تھی۔
یہ دریافت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس سے قدیم لیما تہذیب کے مذہبی عقائد، قربانی کی رسومات اور تدفینی طریقوں کے بارے میں نئی معلومات ملنے کی امید ہے۔
Source link

