"اقتصادی پابندیوں میں امریکہ کا ساتھ دینے والا ملک دشمن تصور ہوگا”، ایران کا انتباہ


تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) — ایران نے امریکہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ کی دھمکیوں کے جواب میں سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ جو ممالک تہران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیوں میں شریک ہوں گے، انہیں ایران دشمن تصور کیا جائے گا۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک، خصوصاً پڑوسی ریاستیں، امریکہ کی شروع کردہ اقتصادی جنگ کا حصہ بننے سے گریز کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کوئی کارروائی کی تو تہران کا جواب زلزلے جیسا ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کو آیت اللہ خامنہ ای کے مزار پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا کہ شدید دباؤ کے باعث ایران تباہ ہوکر وینزویلا جیسا بن جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے دباؤ کے باوجود ثابت قدمی، اتحاد اور استقامت کا مظاہرہ کیا، اور دنیا اس یکجہتی کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ انہوں نے مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے عوام سے اتحاد کی اپیل کی۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں چین کے تعاون کے بغیر کامیاب ہونا مشکل ہیں، کیونکہ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور تیل کا اہم ترین خریدار ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں چین اور ایران کے درمیان تقریباً ۲۴.۱ ارب ڈالر کی تجارت ہوئی، جس میں ۲۳.۱ ارب ڈالر کا خام تیل شامل تھا۔ چینی نجی ریفائنریاں ("ٹی پاٹس”) روایتی امریکی پابندیوں سے نسبتاً محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔
اسی دوران صدر پزشکیان، اسپیکر باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں امریکی معاشی جنگ سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

متعلقہ پوسٹ