بیجنگ میں ہیومنائیڈ روبوٹس نے کئی انسانی ریکارڈ توڑ دیئے

robot d


بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) — چین کے ہیومنائیڈ روبوٹس نے سنیچر کو بیجنگ میں منعقدہ اولمپکس طرز کے ’’عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز‘‘ کے پہلے ہی دن انسانوں کے قائم کردہ کئی ریکارڈز توڑ دیے، جن میں یوسین بولٹ کا ۱۰۰ میٹر دوڑ کا عالمی ریکارڈ بھی شامل ہے۔
منتظمین کے مطابق ان کھیلوں میں ۲ ہزار سے زائد ہیومنائیڈ روبوٹس حصہ لے رہے ہیں۔ پانچ روزہ یہ کھیل اپنے دوسرے سال میں داخل ہو چکے ہیں اور ان کا مقصد امریکہ اور چین کے مابین جاری ٹیکنالوجی دوڑ کے تناظر میں جدید روبوٹکس میں چین کی تیز رفتار پیش رفت کی نمائش کرنا ہے۔ مقابلوں میں دوڑ، ٹیبل ٹینس اور فٹ بال سمیت ۵۱ کھیل اور ایک ہزار سے زائد مسابقات شامل ہیں، جو ۲۰۲۲ء کے سرمائی اولمپکس کیلئے تعمیر کردہ نیشنل اسپیڈ اسکیٹنگ اوول میں منعقد ہو رہے ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق ’’لائٹننگ‘‘ نامی روبوٹ، جو اسمارٹ فون کمپنی آنر نے تیار کیا ہے، نے ۱۰۰ میٹر دوڑ ۹.۳۲ سیکنڈ میں مکمل کرکے یوسین بولٹ کا ۹.۵۸ سیکنڈ کا ۱۷ سالہ عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔ اسی روبوٹ نے اپریل میں بیجنگ ہاف میراتھن بھی ۵۰ منٹ ۲۶ سیکنڈ میں جیتی تھی، جو مردوں کے عالمی ریکارڈ سے بھی کم وقت تھا۔
اسٹینڈنگ ہائی جمپ میں ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے ۲.۸۸ میٹر کی اونچائی عبور کر کے کیوبا کے جاویئر سوتومایور کا ۱۹۹۳ء کا ۲.۴۵ میٹر کا انسانی عالمی ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ دونوں روبوٹس بیجنگ کی ایکس ہیومنائیڈ کمپنی کے تیار کردہ ہیں۔ افتتاحی تقریب میں سیکڑوں ہیومنائیڈ روبوٹس نے میدان میں قطاروں کی صورت مارچ کرتے ہوئے ہم آہنگی کا شاندار مظاہرہ بھی کیا۔

متعلقہ پوسٹ