پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مسنگ لنک روڈ کے فیز ون کی تکمیل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبے میں جاری مالی بے ضابطگیوں پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ جب بھی وہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو ان کے خلاف ڈرامے بنائے جاتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے سالانہ 500 ارب روپے ہڑپ کیے جا رہے ہیں اور کھانے والوں کے مزے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس لوٹ مار پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے تمام فریقوں کو کھلی دعوت دی کہ تنقید برائے اصلاح کی جائے، مگر بے بنیاد الزام تراشی قابل قبول نہیں۔
ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پشاور کے لیے 200 ارب روپے کا ترقیاتی پیکج زیر عمل ہے جس کے اعلان کے بعد سے کچھ حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آؤٹر رنگ روڈ کی فیزیبیلیٹی بھی جلد مکمل کر لی جائے گی، جبکہ مسنگ لنک روڈ کے دیگر فیزز پر کام جاری ہے، تاہم بعض مقامات پر زمین کے تنازعات رکاوٹ بن رہے ہیں۔
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ حکومت کسی کی زمین زبردستی نہیں لے گی اور تمام معاملات قانون کے دائرے میں حل کیے جائیں گے۔

