واشنگٹن: امریکی آئین اور وار پاورز ایکٹ کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حاصل 60 روزہ فوجی اختیار آج ختم ہوگیا، اور اب یہ فیصلہ امریکی کانگریس کے ہاتھ میں آگیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جاری رہے گی یا نہیں۔
وار پاورز ریزولیوشن کے تحت امریکی صدر کسی بھی فوجی کارروائی کے آغاز کے 60 دن کے اندر کانگریس سے باضابطہ منظوری لینے کا پابند ہوتا ہے، بصورت دیگر فوجی کارروائی روکنا لازمی ہو جاتی ہے۔ یہ قانونی مدت آج بروز جمعہ ختم ہوگئی۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے اپنا موقف برقرار رکھتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ عملی طور پر پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق 7 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی طے پائی تھی جسے بعد ازاں لامحدود مدت کے لیے بڑھا دیا گیا، اور اس تاریخ کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فائرنگ نہیں ہوئی۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ چونکہ جنگ بندی غیر معینہ مدت کے لیے نافذ ہے، اس لیے 60 روزہ قانونی مدت خودبخود غیر متعلق ہو جاتی ہے۔ تاہم کانگریس کے متعدد ارکان، خاص طور پر ڈیموکریٹس، اس تشریح کو مسترد کرتے ہوئے کانگریس کے آئینی جنگی اختیارات کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
آج کانگریس میں اس معاملے پر ووٹنگ یا بحث متوقع ہے جو امریکی خارجہ اور دفاعی پالیسی کے لیے ایک اہم آئینی موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔

