
(ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے دوبارہ قربت بڑھانے کی کوشش نے ایشیا میں امریکا کے دیرینہ اتحادیوں کے اعتماد کو متاثر کرنا شروع کردیا، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان اور بھارت میں واشنگٹن کی سکیورٹی پالیسی پر نئی تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کے ساتھ طویل عرصے سے جاری مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی کے ٹرمپ انتظامیہ کے اچانک فیصلے نے خطے میں یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ امریکی صدر کی غیر متوقع پالیسی ایشیا میں قائم سکیورٹی اتحادوں کو کمزور کرسکتی ہے۔
امریکا نے جنوبی کوریا کے ساتھ اگلے ماہ ہونے والی ایک اور فوجی مشق بھی منسوخ کردی ہے۔ واشنگٹن نے اس کی وجہ ایران جنگ کے باعث امریکی افواج پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو قرار دیا ہے۔
ٹرمپ ایک مرتبہ پھر کم جونگ اُن کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم شمالی کوریا کی جانب سے اس پیشکش پر اب تک سرد ردعمل سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب پیانگ یانگ نے حال ہی میں جنوبی کوریا اور جاپان کے قریب بیلسٹک میزائل بھی فائر کیے۔
یہ بھی پڑھیں:47سال بعد۔۔!امریکا نے بڑافیصلہ سنا دیا
جاپان میں بھی ٹرمپ کی پالیسی پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ سابق جاپانی وزیر دفاع اتسونوری اونودیرا نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا سے قربت کی امریکی کوشش جوہری ہتھیار رکھنے والے پیانگ یانگ کو مزید حوصلہ دے سکتی ہے، جو ٹوکیو کے لیے انتہائی تشویش ناک صورتحال ہوگی۔
تائیوان بھی امریکا اور چین کے تعلقات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ٹرمپ کی چینی صدر شی جن پنگ سے آئندہ ملاقات اور تائیوان کو تقریباً 14 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت سے متعلق فیصلوں نے بھی تائی پے میں بے چینی پیدا کردی ہے۔
دوسری جانب بھارت میں بھی واشنگٹن کے ساتھ طویل مدتی دفاعی تعاون کے حوالے سے احتیاط بڑھ گئی ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق امریکا کی جانب سے تجارتی اور دفاعی معاملات میں اپنائے جانے والے لین دین پر مبنی رویے نے نئی دہلی کو مستقبل کے دفاعی معاہدوں کے بارے میں زیادہ محتاط کردیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران جنگ میں امریکی وسائل کی منتقلی بھی ایشیا میں امریکی عسکری موجودگی پر اثر انداز ہورہی ہے۔ امریکا کا ایشیا میں تعینات طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس جارج واشنگٹن‘ بھی مشرق وسطیٰ منتقل کیا جاچکا ہے، جس سے چین کے خلاف امریکی دفاعی صلاحیت اور خطے میں اس کی روک تھام کی حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یوں ٹرمپ کی شمالی کوریا کے ساتھ دوبارہ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش ایک طرف سفارتی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے، تاہم دوسری جانب اس نے ایشیا میں امریکا کے دیرینہ اتحادیوں کو واشنگٹن کی طویل مدتی سکیورٹی ضمانتوں کے بارے میں مزید محتاط کردیا ہے۔

