لندن: نئی سائنسی تحقیقات نے مسلسل اور بے مقصد اسکرولنگ، خصوصاً مختصر ویڈیوز، ریلز اور شارٹس دیکھنے کی عادت کے دماغی کارکردگی پر ممکنہ اثرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
جولائی 2026 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں 57 افراد پر تجربہ کیا گیا، جس میں ایک گروپ کو مسلسل طویل ویڈیو دکھائی گئی جبکہ دوسرے گروپ کو اسی دورانیے کے متعدد مختصر ویڈیوز دکھائے گئے۔ بعد ازاں یادداشت کے جائزے میں مختصر ویڈیوز دیکھنے والوں نے معلومات کم درست طور پر یاد رکھیں۔
تحقیق کے مطابق مختصر ویڈیوز دیکھنے کے بعد دماغ کے ان حصوں میں سرگرمی نسبتاً کم دیکھی گئی جو معلومات کو مربوط کرنے، توجہ برقرار رکھنے اور معنی سمجھنے سے وابستہ ہیں۔ محققین نے دماغی حصوں کے باہمی رابطے میں بھی کمی نوٹ کی، جسے یادداشت کی کارکردگی سے جوڑا گیا۔
اس سے قبل جون 2026 میں شائع ہونے والے ایک جائزہ مطالعے میں 2015 سے 2025 تک کی 42 تحقیقات کا تجزیہ کیا گیا، جن میں مجموعی طور پر 46 ہزار 912 افراد شامل تھے۔ اس جائزے میں زیادہ اور بے ترتیب مختصر ویڈیو استعمال کو توجہ میں کمی، جلد بازی پر مبنی رویے، کمزور ورکنگ میموری اور خود پر قابو رکھنے کی صلاحیت میں کمی کے ساتھ منسلک پایا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ مختصر ویڈیوز ہی ان مسائل کی براہِ راست وجہ ہیں، تاہم شواہد یہ ضرور بتاتے ہیں کہ مسلسل، بے مقصد اور تیز رفتار مواد دماغی توجہ اور یادداشت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
مئی 2026 کی ایک اور تحقیق میں 72 افراد کو 30 منٹ تک مختصر ویڈیوز، ایک دستاویزی فلم یا کوئی ویڈیو نہ دیکھنے کے بعد ذہنی کام دیے گئے۔ مختصر ویڈیوز دیکھنے والے افراد میں اگلے کام کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کی صلاحیت کم دیکھی گئی۔
ڈوم اسکرولنگ سے مراد سوشل میڈیا یا نیوز فیڈز پر منفی، مایوس کن یا خوفناک خبروں کو مسلسل اور جنونی انداز میں دیکھتے رہنا ہے، حتیٰ کہ یہ عمل ذہنی دباؤ اور بے چینی میں اضافہ کرے۔ ماہرین کے مطابق مسئلہ ہر مختصر ویڈیو نہیں بلکہ وہ عادت ہے جس میں صارف بغیر مقصد کے ایک ویڈیو سے دوسری ویڈیو پر منتقل ہوتا رہتا ہے۔

