میٹا نے امریکی ریاستوں کے ساتھ سوشل میڈیا لت معاملے میں ۶۸ء۱۶؍ ارب ڈالر کے تصفیے پر اتفاق کر لیا

meta 26826 d


میٹا نے امریکی ریاستوں کے ساتھ ایک بڑے قانونی تنازع کو ختم کرنے کے لیے ۶۸ء۱۶؍ ارب ڈالر تک کے تصفیے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ مقدمہ فیس بک اور انسٹاگرام کو مبینہ طور پر نوجوانوں کے لیے نشہ آور بنانے، پلیٹ فارمز کی حفاظت سے متعلق گمراہ کن معلومات دینے اور بچوں کا ذاتی ڈیٹا غیر قانونی طور پر جمع کرنے کے الزامات سے متعلق تھا۔ معاہدہ امریکی وفاقی عدالت کی منظوری سے مشروط ہے۔
یہ مقدمہ امریکی ریاست کیلیفورنیا اور دیگر ریاستوں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں مجموعی طور پر ۴۷؍ ریاستیں، ڈسٹرکٹ آف کولمبیا اور امریکی علاقے شامل ہوئے۔ ابتدائی طور پر ۲۹؍ ریاستوں نے ۲۰۲۳ء میں میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ ریاستوں کا الزام تھا کہ کمپنی نے فیس بک اور انسٹاگرام کے ایسے فیچرز اور ڈیزائن تیار کیے جو بچوں اور نوعمروں کو زیادہ سے زیادہ وقت پلیٹ فارمز پر گزارنے کی جانب راغب کرتے ہیں، جبکہ ان کے ممکنہ ذہنی صحت کے نقصانات سے متعلق خدشات کو بھی مناسب طور پر دور نہیں کیا گیا۔
تصفیے کے تحت میٹا کو اپنے پلیٹ فارمز میں نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے متعدد اہم تبدیلیاں کرنا ہوں گی، جن میں نوعمر صارفین کے لیے روزانہ استعمال کی حد، رات کے اوقات میں رسائی پر پابندی اور اسکول کے اوقات میں اطلاعات محدود کرنا شامل ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق نوعمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا استعمال کی روزانہ حد تقریباً دو گھنٹے مقرر کی جائے گی، تاہم پیغام رسانی اور طویل مواد کے استعمال کے لیے بعض استثنائی صورتیں موجود ہوں گی۔ والدین کو بھی بعض پابندیوں میں تبدیلی یا اجازت دینے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
معاہدے میں عمر کی تصدیق کے نظام کو بہتر بنانے، نامناسب مواد تک بچوں کی رسائی محدود کرنے اور والدین کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ نوعمر صارفین کو ذاتی نوعیت کے فیڈ کی سفارشات بند کرنے کا اختیار بھی دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کاسمیٹک سرجری سے متعلق بعض فلٹرز پر پابندی اور پوسٹس پر لائکس کی بنیاد پر سماجی موازنے کو کم کرنے جیسے اقدامات بھی متوقع ہیں۔
واضح رہے کہ ریاستوں اور میٹا کے درمیان یہ تصفیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی کے خلاف سوشل میڈیا کے ممکنہ نقصانات سے متعلق ہزاروں مقدمات زیر سماعت ہیں۔ اس سے قبل نیو میکسیکو میں ایک مقدمے میں میٹا کو بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر ۳۷۵؍ ملین ڈالر کا فیصلہ سنایا گیا تھا، جبکہ بعد میں ریاستی عدالت نے اضافی جرمانے سمیت مجموعی رقم ۵۶۷؍ ملین ڈالر تک پہنچا دی۔
موجودہ مقدمے میں ریاستوں نے میٹا سے تقریباً ۲۰۰؍ ارب ڈالر تک ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ کمپنی نے ممکنہ قانونی جرمانوں کی زیادہ سے زیادہ رقم اس سے کہیں زیادہ، تقریباً ۴ء۱؍ ٹریلین ڈالر تک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ تاہم ریاستوں کی جانب سے پیش کردہ تخمینے کے مقابلے میں موجودہ تصفیہ بہت کم ہے اور اس کے بدلے میٹا کو اپنے پلیٹ فارمز میں نمایاں حفاظتی تبدیلیاں نافذ کرنا ہوں گی۔
میٹا نے کسی غلط کام کا اعتراف نہیں کیا، تاہم کمپنی نے نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی حمایت کی ہے۔ معاہدے میں ایک ایسا مالی ڈھانچہ بھی شامل ہے جس کے تحت مجموعی رقم کا ایک حصہ دیگر بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں، خصوصاً یوٹیوب اور ٹک ٹاک، کی جانب سے اسی نوعیت کے حفاظتی اقدامات اختیار کرنے سے مشروط ہے۔
یہ تصفیہ امریکی سوشل میڈیا صنعت کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں بچوں اور نوعمروں کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام کے استعمال کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ معاملہ اس وسیع تر بحث کو بھی تقویت دیتا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو نوجوانوں کی ذہنی صحت، رازداری اور آن لائن تحفظ کے حوالے سے کس حد تک ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔

متعلقہ پوسٹ