تباہ کن سیلاب میں 77 ہندویاتری بہہ گئے

news 1787771971 2240



news 1787771971 2240

(ویب ڈیسک) بھارت میں سیلاب نے 77 عقیدت مند ہندؤں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔

بھارت  میں سادھ گرو نے انکشاف کیا ہے کہ تبت میں ماؤنٹ کیلاش پر واقع ہندو مذہب کے ایک مندر کی یاترا  کر کے  واپس آنے والے 77 یاتری سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔ سادھ گورو نے بتایا کہ لاپتہ ہو جانے والے تمام یاتری ان کے عقیدت مند تھے۔ ان کے ادارے کے  زیر انتطام  درجنوں افراد تبت میں اس یاترا کیلئے گئے تھے۔ ان میں سے 77 یاتری چین کے سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب کی زد میں آ کر لاپتا ہوگئے ہیں۔

سادھ گرو نے  ایکس پر ایک پوسٹ کی جس میں انہوں نے  بتایا کہ یاتریوں کا گروپ چین کے علاقے گیرونگ میں واقع سرحدی اسٹیشن پر موجود تھا جب اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

 سادھ گرو نے کہا کہ امیگریشن دفتر میں موجود افراد کے بارے میں تاحال کوئی سرکاری اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ان کے بقول متاثرہ افراد ماؤنٹ کیلاش کی یاترا مکمل کرنے کے بعد واپس آ رہے تھے۔ 
 سادھ گورو  نے مزید کہا کہ ان کی تنظیم حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ متاثرہ مقام تک پہنچنے اور ممکنہ امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا سکے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں گیرونگ سرحدی بندرگاہ کے قریب لوگوں کو اچانک آنے والے شدید سیلابی ریلے سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں کیچڑ سے بھرا پانی تیزی سے پورے عمارت کے احاطے میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیئے:  بارش ہوگی یا نہیں : محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی آگئی 
 گیرونگ چین اور نیپال کے درمیان ایک اہم زمینی سرحدی گزرگاہ ہے جہاں سے دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت ہوتی ہے۔ حالیہ شدید بارشوں کے باعث خطے کے مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ماؤنٹ کیلاش ہندو مت کے علاوہ بدھ مت، جین مت اور تبتی مذہب بون کے پیروکاروں کے لیے بھی انتہائی مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔ سادھ گرو کی تنظیم ایشا فاؤنڈیشن ہر سال ماؤنٹ کیلاش اور مانسروور کے لیے متعدد یاترا پروگرام منعقد کرتی ہے۔

تاہم لاپتا افراد کی صورتحال کے حوالے سے حتمی معلومات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں اور یہ واضح نہیں کہ 77 افراد میں سے کتنے افراد محفوظ ہیں یا ان کی تلاش کے لیے ریسکیو کارروائی کہاں تک پہنچی ہے۔

حکام کی جانب سے مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ