امریکہ کے مذہبی آزادی سے متعلق کمیشن نے انڈیا میں مذہبی آزادی کی صورت حال اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی سرپرست سمجھی جانے والی ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ کے دورہ امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے انتہا پسند ہندو تنظیم کے ارکان کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت امریکہ کے دورے پر ہیں اور وہ ہفتے کو نیویارک شہر میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرنے والے ہیں۔
آر ایس ایس ایک بااثر ہندو تنظیم ہے، جس سے وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جنم لیا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں
تنظیم نے مئی میں کہا تھا کہ اس نے بیرون ملک دوروں کا اہتمام اس تاثر کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا ہے کہ وہ ایک نیم فوجی تنظیم ہے جو اقلیتوں پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کے چیئرمین آصف محمود نے بدھ کو ایک بیان میں کہا: ’ہم امریکی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث آر ایس ایس کے ارکان اور انڈین حکام کے خلاف ہدفی پابندیاں عائد کرنے پر غور کرے، جن میں موہن بھاگوت کا ویزا منسوخ کرنا بھی شامل ہے۔‘
یو ایس سی آئی آر ایف امریکی حکومت کا ادارہ ہے جو دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی نگرانی کرتا اور پالیسی سے متعلق سفارشات پیش کرتا ہے تاہم اس کی سفارشات کو لاگو کرنا حکومت کے لیے لازمی نہیں ہوتا۔ واشنگٹن نے اس سے قبل بھی ایسی حالیہ سفارشات کے بعد انڈیا پر پابندیاں عائد نہیں کیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب انڈیا کی وزارت خارجہ نے کمیشن کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے یو ایس سی آئی آر ایف کو انڈیا کے خلاف متعصب ادارہ قرار دیا ہے۔
حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس ایسی اکثریت پسند نظریے کو فروغ دیتی ہے جو اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت کو ہوا دیتی ہے۔
آر ایس ایس عدم برداشت کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور خود کو ایک ’ہندو دھرم کی تہذیبی، ثقافتی تحریک‘ قرار دیتی ہے، جو ہندوؤں کو متحد کرنے سمیت انڈیا کو ’عظمت کی بلندی‘ تک لے جانا چاہتی ہے۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا بھی کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں انڈیا میں اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ، مذہب کی بنیاد پر شہریت کا قانون، مسلمانوں کی ملکیت والی جائیدادوں کی مسماری، مسلم اکثریتی کشمیر کی خودمختاری کا خاتمہ اور مذہب تبدیل کرنے سے متعلق قانون، عقیدے کی آزادی کے لیے چیلنج بن رہے ہیں۔
حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں قائم انڈین حکومت امتیازی سلوک کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کی پالیسیاں، جن میں غذائی سبسڈی کے پروگرام اور بجلی کی فراہمی کے منصوبے بھی شامل ہیں، تمام برادریوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔

