گزشتہ ماہ طلبہ تحریک میں شامل ہوئی 15 سالہ لڑکی کو آن لائن نشانہ بنانے کی قیادت ’جئے پور ڈائیلاگس‘ نے کی تھی۔ جئے پور ڈائیلاگس فورم کے بانی سابق آئی اے ایس افسر سنجے دکشت ہیں اور بی جے پی کے دو رہنما اس کے ڈائریکٹر ہیں۔
(بائیں سے دائیں) بی جے پی رہنما پنکج جوشی اور سنیل کوٹھاری اور سنجے دکشت۔(تصویر: گوبندھ وی بی)
نئی دہلی/جئے پور: جولائی 2026 کے اواخر میں سوشل میڈیا پر اٹھی ایک لہر نے 15 سالہ لڑکی کی زندگی کو پوری طرح بدل دیا۔ اس لڑکی نے ان طلبہ مظاہروں میں حصہ لیا تھا، جن کے دباؤ میں اس وقت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اپنے ساتھ احتجاج کرنے والے کئی نوجوانوں کی طرح اس نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بیان کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، جس کے بعد اسے نشانہ بنا کر آن لائن ہراسانی کی مہم شروع ہو گئی۔
اس مہم کی قیادت ’دی جئے پور ڈائیلاگس‘ نامی ایک تنظیم نے کی۔ اس کے بانی سنجے دکشت انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کے سابق افسر ہیں۔ تنظیم خود کو ’ہندوستانی علمی روایات کو فروغ دینے والا ایک متحرک آن لائن پلیٹ فارم‘ قرار دیتی ہے۔ ایکس پر مسلسل کئی پوسٹ کے ذریعے ’دی جئے پور ڈائیلاگس‘ کے ہینڈل نے لڑکی کی پہچان سے متعلق جانکاری مانگی، اسے ’موسٹ وانٹیڈ‘ قرار دیا اور آخر کار اس کی نجی جانکاری عام کر دی۔
اس کے بعد 15 سال کی اس لڑکی کو ریپ، قتل اور ایسیڈ اٹیک کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ انجانے لوگ اس کے گھر تک پہنچنے لگے۔ اس کے بعد وہ اور اس کا خاندان چھپنے کو مجبور ہو گئے۔
’دی جئے پور ڈائیلاگس‘ نے 1 اگست کو ایک مضمون میں اپنے اس قدم کا دفاع کرتے ہوئے خود کو ’ذمہ دار قوم پرست پلیٹ فارم‘ قرار دیا۔ مضمون میں کہا گیا، ’ہم نے ان تصویروں کو اپنے ایکس ہینڈل پر پوسٹ کیا، اخلاقیات کی ساری حدیں پار کرنے والوں کو سر عام بے نقاب کرنے کی مانگ کی اور قانونی کارروائی کی حمایت کے لیے ہم پوری طرح تیار تھے۔‘
مضمون میں مزید کہا گیا، ’اگر ہندوستان کے وزیر اعظم کی کھلے عام توہین کے لیے جوابدہی کا مطالبہ کرنا بائیں بازو کے لوگوں کی نظر میں جئے پور ڈائیلاگس کو مجرم بناتا ہے، تو ہمیں یہ الزام فخر کے ساتھ قبول ہے۔‘
لڑکی کے ساتھ تنظیم کے اس رویے کے بعد اس کی دیگر سرگرمیاں اور مواد بھی جانچ کے دائرے میں آ گئے۔ ’دی جئے پور ڈائیلاگس‘ کی ویب سائٹ پر ’اسلام‘ اور ’سناتن‘ جیسے حصے موجود ہیں۔ ویب سائٹ پر اکثر ایسی خبریں اور مضامین شائع ہوتے ہیں جن میں پروپیگنڈہ اور فرقہ وارانہ تیور نظر آتا ہے۔
حالیہ چند مثالیں ملاحظہ کیجیے۔ ایک مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اپنے 18 ماہ کی حکومت میں عام آدمی پارٹی کو ’تباہ‘ کر دیا ہے۔ دوسرے مضمون کی ہیڈ لائن ہے، ’ڈیموگرافک جہاد نے گجرات کے ایک اور علاقے کو اپنے قبضے میں لیا۔‘ وہیں، تیسرے مضمون میں تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجئے کے ریاست میں گئو کشی پر لگی پابندی کو چیلنج کرنے کے فیصلے کو ’اقلیتی ووٹ بینک کو خوش کرنے کی کھلی کوشش‘ قرار دیا گیا ہے۔
اس کے سوشل میڈیا ہینڈل اکثر عیسائی یا مسلمانوں سے تعلق رکھنے والی عوامی شخصیات کو نشانہ بناتے ہیں۔ مثال کے طور پر، نومبر 2025 میں آئی سی سی خواتین کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں ہندوستانی کرکٹر جمائمہ روڈریگز کے 24 رن پر آؤٹ ہونے کے بعد ’دی جئے پور ڈائیلاگس‘ نے ان کے مذہب کو نشانہ بنایا۔ ایکس پر اس کی ایک پوسٹ میں روڈریگز کی تصویر کے ساتھ لکھا تھا، ’اتوار ہونے کی وجہ سے جیسس چھٹی پر ہیں۔‘
فروری 2026 میں اسی اکاؤنٹ نے ایک ویڈیو شیئر کیا، جس میں نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی ماں اور فلمساز میرا نائر کو امریکی فنانسر اور بچوں کے جنسی استحصال کے مجرم جیفری ایپسٹین سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔ پوسٹ کے ساتھ لکھا تھا، ’ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی، جیفری ایپسٹین کے سگے بیٹے (بایولوجیکل سن) ہیں۔‘ (ویڈیو میں استعمال کی گئی تصویریں فرضی تھیں۔ متعدد خبروں میں پایا گیا کہ یہ تصویریں اے آئی کی مدد سے بنائی گئی تھیں۔)
ہم نے ’دی جئے پور ڈائیلاگس‘ کی جانب سے شائع کیے گئے مواد سے آگے بڑھ کر اس کے پیچھے موجود کارپوریٹ ڈھانچے کا پتہ لگانے کی کوشش کی۔ ہماری تحقیقات دو اداروں تک پہنچیں؛ جئے پور ڈائیلاگس فورم، جو ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے اور جس کی بنیاد دکشت نے نومبر 2016 میں ڈالی تھی، اور جے ڈی ڈیجیٹل پرائیویٹ لمیٹڈ، جو منافع کے لیے کام کرنے والی میڈیا اور کنٹینٹ کمپنی ہے اور جس کی بنیاد انہوں نے ستمبر 2020 میں رکھی تھی۔
ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ڈھانچے کے سیاسی روابط بھی ہیں۔ اس کے مالی دستاویزوں کے مطابق، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کم از کم دو رہنما جئے پور ڈائیلاگس فورم کے ڈائریکٹر ہیں۔
جے ڈی ڈیجیٹل ہی ’دی جئے پور ڈائیلاگس‘ کی ویب سائٹ اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلاتی ہے۔ مالی سال 2024-25 میں کمپنی کو تقریباً 6.6 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔ اسی سال اس نے ملازمین پر تقریباً 83 لاکھ روپے اور پروڈکشن پر تقریباً 1.72 کروڑ روپے خرچ کیے۔ ٹیکس ادا کرنے کے بعد کمپنی کو 1.13 کروڑ روپے کا منافع ہوا۔
سال 2020 میں جے ڈی ڈیجیٹل کے قیام سے اب تک کمپنی نے سنجے دکشت، ان کے بیٹے شروتیہ اور بیوی شروتی کو مجموعی طور پر تقریباً 4 کروڑ روپے سے کچھ کم رقم ادا کی ہے۔
جے ڈی ڈیجیٹل اور جئے پور ڈائیلاگس فورم، دونوں کا رجسٹرڈ پتہ ایک ہی ہے۔ یہ جئے پور کے جنوب مشرقی حصے میں واقع جگت پورہ کے پوش رہائشی علاقے پام کورٹ میں ایک مکان کا پتہ ہے۔
ہم نے اس رپورٹ کے لیے سنجے دکشت سے مفصل سوالوں کی ایک فہرست شیئر کرکے ان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہمارے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا۔ اس کے بجائے انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ ان کی اہلیہ شروتی دکشت ’راجستھان ہائی کورٹ، جئے پور میں سینئر اور معروف وکیل‘ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، ’لہٰذا آپ کے پاس جو بھی جانکاری ہے،وہ صحیح ہو یا غلط، اسے کس طرح پیش کرتے ہیں، اس حوالے سے بہت محتاط رہیں۔ آپ کو ایسے سوال پوچھنے کا کوئی حق نہیں ہے جن میں پہلے سے ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا گیا ہو۔ اگر آپ نے کوئی غلط جانکاری شائع کی تو قانونی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔‘
جئے پور ڈائیلاگس فورم کے سیاسی روابط
دکشت کی غیر منافع بخش تنظیم جئے پور ڈائیلاگس فورم کا رجسٹریشن 24 نومبر 2016 کو ہوا تھا۔ جئے پور ڈائیلاگس فورم کے مقاصد میں پروگرام منعقد کرنا، کتابیں شائع کرنا اور ادب، سائنس، فنون، موسیقی، ثقافت، تاریخ، اسٹریٹجک امور، عسکری معاملات، معاشیات اور تعلیم جیسے موضوعات پر کام کرنے والی تنظیموں، فن کاروں اور دانشوروں کو تعاون فراہم کرنا شامل ہے۔
تنظیم کا ایک مقصد ’اشتہارات کے اخلاقی معیارات کو فروغ دینے اور انہیں بہتر بنانے کے لیے ہر عملی طریقے سے تعاون اور کام کرنا‘ بھی بتایا گیا ہے۔
تقریباً ایک دہائی قبل سوراجیہ میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دکشت نے فورم کے کام کاج کو مزید واضح انداز میں بیان کیا تھا۔ انہوں نے جئے پور ڈائیلاگس فورم کے ذریعے کئی دنوں تک جاری رہنے والے ایک مقررین کے پروگرام کے انعقاد کے بارے میں بات کی تھی، جس کا نام بھی ’دی جئے پور ڈائیلاگس‘ ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ’مارکسی ڈسکورس‘ ہندوستان کے اسلامی حکمرانوں کے ’سخت جہادی کردار‘ کو کمتر کرکے پیش کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’یہ بائیں بازو کا جدید ڈسکورس تقریباً پوری طرح اکثریتی برادری پر رواداری کی ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور اس سے توقع کرتا ہے کہ وہ جہادی دہشت گردی جیسے حقیقی خطرے پر بھی ردعمل ظاہر نہ کرے۔ ہمارا مقصد ایسے ڈسکورس کو سامنے لانا اور ان میں توازن قائم کرنا ہے…‘
جئے پور ڈائیلاگس فورم کے موجودہ ڈائریکٹروں میں دکشت، وشنو بہانی نامی ایک کاروباری اور بی جے پی رہنما سنیل کوٹھاری اور پنکج جوشی کے نام شامل ہیں۔ جب ہم نے کوٹھاری اور جوشی سے رابطہ کیا، دونوں تنظیم کے قیام کے وقت سے ہی اس کے ڈائریکٹر ہیں،تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی۔
قابل ذکر ہے کہ 16 جنوری 2026 کی کمپنی کی ڈائریکٹر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’زیرجائزہ سال کے دوران ادارے نے کسی خاتون ملازم کی تقرری نہیں کی۔‘
سال 2018 کی ایک فائلنگ میں جئے پور ڈائیلاگس فورم کے لیٹر ہیڈ پر بی جے پی کے سنیل کوٹھاری کو صدر اور پنکج جوشی کو سکریٹری کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
سنیل کوٹھاری نے گزشتہ دو دہائی میں بی جے پی کی راجستھان یونٹ میں کئی اہم عہدے سنبھالے ہیں۔ جولائی 2010 میں انہیں پہلی بار ریاستی بی جے پی کا سکریٹری مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 2018 میں وہ ریاستی نائب صدر بنے۔ 2020 میں انہیں جئے پور شہر کا بی جے پی ضلع صدر بنایا گیا۔ بعد میں انہوں نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
اسی دوران بی جے پی کے اس وقت کے قومی صدر جے پی نڈا کے دستخط والا ایک خط سامنے آیا، جس میں کوٹھاری کو راجستھان میں کہیں بھی زمین یا غیر منقولہ جائیداد خریدنے کے معاملے میں پارٹی کی جانب سے مجاز قانونی نمائندہ اور دستخط کنندہ مقرر کیا گیا تھا۔
خط کے مطابق، ان لین دین سے متعلق دستاویزوں پر کوٹھاری بی جے پی کی جانب سے دستخط کر سکتے تھے۔ اس کے علاوہ، پارٹی کے ضلعی دفتر کی عمارت کی تعمیر کے لیے ضروری منظوریوں اور دیگر اجازت ناموں کے سلسلے میں وہ سرکاری حکام سے رابطہ اور تال میل کر سکتے تھے۔
بی جے پی کے اس وقت کے قومی صدر جے پی نڈا کا ایک خط، جس میں سنیل کوٹھاری کو راجستھان میں کہیں بھی زمین یا غیر منقولہ جائیداد خریدنے کے لیے پارٹی کی جانب سے مجاز قانونی نمائندہ اور دستخط کنندہ مقرر کیا گیا ہے۔
خبروں کے مطابق، کوٹھاری جئے پور میں جے پی کے دفتر کی تعمیر کے لیے قائم کمیٹی کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ جون 2024 میں انہوں نے شہر کی شہری منصوبہ بندی اور ترقیاتی ادارے جئے پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جے ڈی اے) سے بی جے پی کا ریاستی ہیڈکوارٹر بنانے کے لیے 6,000 مربع میٹر کا پلاٹ الاٹ کرنے کی درخواست کی تھی۔ جے ڈی اے نے ایک ماہ بعد یہ پلاٹ الاٹ کر دیا۔
اسی سال اگست میں راجیہ سبھا کی ایک سیٹ کے لیے نامزدگی واپس لینے کے بعد خبروں میں کوٹھاری کو ’ڈمی امیدوار‘ بتایا گیا تھا۔ ان کی نامزدگی واپس لینے سے بی جے پی رہنما رونیت سنگھ بٹو کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔
جئے پور ڈائیلاگس فورم کے دوسرے سیاسی طور پر وابستہ ڈائریکٹر پنکج جوشی بھی طویل عرصے سے بی جے پی سے جڑے رہے ہیں۔ 2004 میں جئے پور کے بلدیاتی انتخابات میں وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر ایک وارڈ سے کونسلر منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے پہلے شہر کے ڈپٹی میئر اور پھر 2009 میں میئر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
جولائی 2021 تک جوشی کو راجستھان میں بی جے پی کا ریاستی میڈیا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا تھا۔ اب وہ اس عہدے پر نہیں ہیں۔ ایکس پر ان کی پروفائل میں انہیں پی این بی کا آزاد ڈائریکٹر بتایا گیا ہے۔ ماناجاتا ہے کہ یہاں پی این بی سے مراد سرکاری سیکٹر کے بینک پنجاب نیشنل بینک سے ہے۔
پی این بی کی ایک دستاویز کے مطابق، جوشی کو دسمبر 2021 میں تین سال کے لیے بینک کے بورڈ میں جز وقتی نان آفیشیل ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔
جولائی 2021 میں بی جے پی کی راجستھان یونٹ کی جانب سے جاری کیا گیا خط، جس میں پنکج جوشی کو ریاستی میڈیا کوآرڈینیٹر بنائے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ستمبر 2019 سے اگست 2023 کے درمیان کانگریس رہنما سنیل شرما بھی جئے پور ڈائیلاگس فورم کے ڈائریکٹر رہے تھے۔ مارچ 2024 میں جئے پور ڈائیلاگس فورم کے ساتھ ان کی وابستگی کی جانکاری منظرِ عام پر آنے کے بعد کانگریس نے انہیں اسی سال ہوئے لوک سبھا انتخابات کے لیے اپنا امیدوار بنانے سے انکار کر دیا تھا۔
فون پر جب ہم نے ان سے رابطہ کیا، تو انہوں نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
کمپنی کے موجودہ چوتھے ڈائریکٹر اور کاروباری وشنو بہانی اکثر ’دی جئے پور ڈائیلاگس‘ کے پوڈکاسٹ اور ویڈیو میں نظر آتے ہیں۔ ایکس پر ان کی ٹائم لائن میں اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنانے والی پوسٹ اور عیسائیت میں تبدیلی مذہب سے متعلق غیر مصدقہ دعوے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے بھی ہمارے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔
گزشتہ چند برسوں میں جئے پور ڈائیلاگس فورم کی زیادہ تر آمدنی چندے سے ہوئی ہے۔
رجسٹرار آف کمپنیز کے پاس جمع تنظیم کے مالیاتی تفصیلات کے مطابق، مالی سال 2024-25 میں اس کی کل آمدنی تقریباً 28 لاکھ روپے تھی اور یہ پوری رقم چندےسے آئی تھی۔ مالی سال 2023-24 میں اس کی آمدنی تقریباً 39 لاکھ روپے تھی، جس میں سے 29 لاکھ روپے چندے سے ملے تھے۔ 2022-23 میں کل آمدنی تقریباً 25 لاکھ روپے تھی، جس میں 16 لاکھ روپے چندے سے آئے تھے۔ وہیں 2021-22 میں تنظیم کی کل آمدنی تقریباً 3.3 لاکھ روپے تھی، جس میں سے 2.9 لاکھ روپے چندے کی صورت میں ملے تھے۔
جئے پور ڈائیلاگس فورم کے دستیاب مالیاتی تفصیلات میں 2024-25 سب سے حال کا سال ہے۔
جئے پور ڈائیلاگس فورم کے مالیاتی تفصیلات کا اسکرین شاٹ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں اس کی زیادہ تر آمدنی چندے سے آئی ہے۔
’دی جئے پور ڈائیلاگس‘ کی ویب سائٹ، جس کا لنک اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی دیا گیا ہے، ہندوستان اور بیرون ملک سے چندےکی اپیل کرتی ہے۔ ویب سائٹ پر ’سپورٹ اَس‘ کے نام سے ایک لنک موجود ہے، جو جے ڈی ڈیجیٹل کی ویب سائٹ کے ایک پیج پر لے جاتا ہے۔ وہاں ہندوستان اور بیرون ملک، دونوں جگہوں سے چندہ دینے والوں کے لیے ادائیگی کے لنک دیے گئے ہیں۔
جے ڈی ڈیجیٹل کے ڈائریکٹر سنجے دکشت اور ان کے بیٹے شروتیہ ہیں۔ کمپنی کی آمدنی کے ذرائع میں ’دی جئے پور ڈائیلاگس‘ کی ویب سائٹ پر دستیاب سبسکرپشن فیس کے ساتھ ساتھ اس کی ویب سائٹ اور یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس پر تین ملین سے زیادہ فالوور والے سوشل میڈیا ناظرین کے درمیان مونیٹائزڈ مواد، ڈیجیٹل اشتہارات اور پروگراموں سے حاصل ہونے والی آمدنی شامل ہے۔
کمپنی کی مالیاتی تفصیلات سےپتہ چلتا ہے کہ 2020 میں اس قیام کے بعد سے اسے غیر ملکی کرنسی میں بھی کچھ ادائیگیاں موصول ہوئی ہیں۔ مالی سال 2020-21 سے 2024-25 کے درمیان یہ غیر ملکی ادائیگیاں جے ڈی ڈیجیٹل کی کل آمدنی کا تقریباً 53 فیصد رہی ہیں۔
جے ڈی ڈیجیٹل کی مالیاتی تفصیلات میں درج غیر ملکی زرمبادلہ سے حاصل ہونے والی آمدنی۔
مئی 2025 میں ویب سائٹ بیلنگ کیٹ کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ’دی جئے پور ڈائیلاگس‘ کا ایک امریکی ورژن بھی ہے، جس کا نام ’جئے پور ڈائیلاگس یو ایس اے‘ ہے اور اس کا اپنا یوٹیوب چینل ہے۔
اس تحقیق کے مطابق، اس چینل پر باقاعدگی سے پروگرام کی میزبانی کرنے والوں میں کاروباری وبھوتی جھا بھی شامل تھے۔ جھا نے 2022 میں نیویارک ریاست کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا تھا، لیکن وہ ہار گئے تھے۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ان کے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔‘
دکشت خاندان کو ادائیگی
جے ڈی ڈیجیٹل کے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی نے سنجے دکشت اور ان کے خاندان کو بڑی رقم کی ادائیگی کی ہے۔ ان ادائیگیوں کو کمپنی کے اہم انتظامی اہلکاروں اور ان کے رشتہ داروں کو کی جانے والی ادائیگیوں کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ ستمبر 2020 میں کمپنی کے قیام کے بعد سے اب تک اس نے سنجے دکشت، ان کے بیٹے اور کمپنی کے کو ڈائریکٹر شروتہ، اور ان کی بیوی شروتی کو مجموعی طور پر تقریباً چار کروڑ روپے ادا کیے ہیں۔
ان ادائیگیوں کی رقم مالی سال 2020-21 میں 21.3 لاکھ روپے، 2021-22 میں 51.5 لاکھ روپے، 2022-23 میں 75.7 لاکھ روپے، 2023-24 میں 83.5 لاکھ روپے اور 2024-25 میں 1.67 کروڑ روپے رہی۔
ان ادائیگیوں میں تنخواہ، قانونی یا انتظامی مشاورت کی فیس، ٹریڈ مارک کے استعمال کی فیس، اعزازیہ، پروگراموں پر اخراجات، مواد سے متعلق اخراجات اور کرایہ شامل ہیں۔
جے ڈی ڈیجیٹل کے مالیاتی گوشواروں کے اسکرین شاٹ، جن میں اہم انتظامی اہلکاروں (سنجے اور شروتیہ دکشت) اور ان کے رشتہ دار (سنجے دکشت کی بیوی شروتی) کو کی جانے والی ادائیگیوں کی تفصیلات دکھائی گئی ہیں۔
جے ڈی ڈیجیٹل کے مالیاتی گوشواروں میں سنجے دکشت اور ان کے خاندان کے افراد کے ساتھ ساتھ 5 ڈاٹس تھاٹ پروسیس ایل ایل پی کو بھی کچھ رقم کی ادائیگی درج ہے۔ اس فرم میں ان کے بیٹے شروتیہ شریک ڈائریکٹر ہیں۔ کمپنی کی فائلنگ میں ان ادائیگیوں کو ’متفرق قرض خواہوں‘ (سنڈری کریڈیٹرز) کو واجب الادا رقم قرار دیا گیا ہے۔
مالی سال 2021-22 سے 2024-25 کے درمیان ان اداروں کو واجب الادا کل رقم تقریباً 66.5 لاکھ روپے درج کی گئی ہے۔ تاہم، مالیاتی گوشواروں سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس میں اہم انتظامی اہلکاروں اور ان کے رشتہ داروں کی حیثیت سے دکشت خاندان کو کی گئی مذکورہ بالا ادائیگیاں بھی شامل ہیں یا نہیں۔ اس رپورٹ کے لیے بھیجے گئے سوالوں کا شروتیہ دکشت نے کوئی جواب نہیں دیا۔
کمپنی کی فائلنگ کے مطابق، پام کورٹ کی وہ جائیداد جہاں سے جے ڈی ڈیجیٹل کا دفتر چلتا ہے، سنجے دکشت کی بیوی شروتی کے نام پر ہے۔ کمپنی اسی جائیداد پر ایک اور عمارت بھی تعمیر کر رہی ہے، جس کے لیے اس نے 2024-25 میں تقریباً 90.5 لاکھ روپے کا قرض لیا تھا۔
سال 2022 سے 2026 کے درمیان کمپنی نے تین گاڑیاں خریدی ہیں۔ شروتیہ کے دستخط شدہ قرض کے دستاویزوں کے مطابق، جے ڈی ڈیجیٹل نے 2022 میں اسکوڈا کوڈیاک ایل اینڈ کیو ایس یو وی کے لیے تقریباً 35 لاکھ روپے، 2025 میں ونڈسر ایکسکلوسیو ای وی کے لیے 12 لاکھ روپے اور 2026 میں مرسڈیز بینز سی300 اے ایم جی لائن لگژری سیڈان کے لیے 45 لاکھ روپے کا قرض لیا۔
جے ڈی ڈیجیٹل کے گاہکوں میں ایک سرکاری سیکٹر کا ادارہ بھی شامل ہے۔
کمپنی کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، سرکاری ملکیت والی آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (او این جی سی) پر مالی سال 2024-25 کے اختتام پر میڈیا کمپنی کے تقریباً 1.69 لاکھ روپے واجب الادا تھے۔ (دستاویزوں میں یہ واضح نہیں ہے کہ او این جی سی کو یہ ادائیگی کس سروس کے لیےکرنی تھی۔)
جے ڈی ڈیجیٹل کے 2024-25 کے مالیاتی گوشوارے کا اسکرین شاٹ، جس میں او این جی سی سے ملنے والی واجب الادا رقم دکھائی گئی ہے۔
ہم نے او این جی سی کے ترجمان سے اس سرکاری سیکٹر کی کمپنی کے جے ڈی ڈیجیٹل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں جانکاری مانگی ہے۔ ان کا جواب موصول ہونے پر اس رپورٹ کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔
سنجے دکشت اور ان کے بیٹے شروتیہ سے ردعمل طلب کیے جانے کے بعد، دی جئے پور ڈائیلاگس کے ایکس اکاؤنٹ نے ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ دی وائر، نیوز لانڈری اور دی نیوز منٹ — جنہیں اس نے ’بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے‘ میڈیا ادارے بتایا — ’جئے پور ڈائیلاگس کے خلاف ایک ہٹ جاب‘ کی تیاری کر رہے ہیں۔
پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ’نیشنلسٹ ایکو سسٹم‘ کی حمایت کرنے والوں سے بدلہ لینے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے، جنہوں نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ اور اس کے فنڈنگ کے ذرائع کو ’اجاگر‘ کیا تھا۔ پوسٹ میں دائیں بازو کے مبصر ابھجیت ایئر مترا اور ’آفس آف وجئے پٹیل‘ نامی ایکس اکاؤنٹ کو ٹیگ کرتے ہوئے، بغیر کوئی ثبوت پیش کیے، دعویٰ کیا گیا کہ ’اگلا نشانہ‘ وہ ہو سکتے ہیں۔
(آیوش جوشی اور ماریا ٹریسا راجو کے ان پٹ کے ساتھ۔)
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

