
( ویب ڈیسک )یوگنڈا کی ریاست تورو کے بادشاہ اویو نییمبا کابامبا ایگورو روکیڈی چہارم 34 سال کی عمر میں انتقال کرگئے، وہ 1995 میں صرف تین برس کی عمر میں تخت سنبھالنے کے بعد دنیا کے کم عمر ترین حکمران بن گئے تھے۔
ریاست تورو کے وزیر اعظم کیلون آرمسٹرانگ روومیئرے اکییکی نے بادشاہ کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق بادشاہ جمعرات کی رات تقریباً 10 بجے مقامی وقت پر انتقال کرگئے، تاہم موت کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
اویو نییمبا نے اپنے والد بادشاہ پیٹرک ڈیوڈ میتھیو کابوی اولیمی سوم کے انتقال کے بعد 12 ستمبر 1995 کو صرف تین سال کی عمر میں تخت سنبھالا تھا۔
یوگنڈا ایک جمہوریہ ہے جہاں منتخب صدر حکومت چلاتا ہے، تاہم ملک میں متعدد روایتی بادشاہتیں اب بھی موجود ہیں۔ ان بادشاہتوں کے پاس سیاسی اختیارات محدود اور زیادہ تر علامتی ہیں، لیکن انہیں ثقافتی اور سماجی سطح پر خاص اہمیت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شاہی محل سے افسوسناک خبر، بادشاہ چل بسے
ریاست تورو مغربی یوگنڈا میں واقع ایک چھوٹی روایتی بادشاہت ہے جو جمہوریہ کانگو کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
یوگنڈا کے حکومتی وزیر بالاَم باروغاہارا نے بادشاہ کی وفات سے کچھ دیر قبل بتایا تھا کہ وہ امریکا میں زیر علاج تھے۔
ریاست تورو کے وزیر اعظم نے بادشاہ کی موت کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ بادشاہ غیر شادی شدہ تھے، تاہم ان کے مطابق تاج کی جانشینی اور تسلسل یقینی ہے۔
بادشاہ اویو نییمبا کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد یوگنڈا میں سوشل میڈیا پر غم اور تعزیت کا اظہار کیا گیا جبکہ ملک بھر کے ذرائع ابلاغ میں بھی خبر نمایاں طور پر نشر کی گئی۔

