کابل / ابوظہبی —
افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے واضح کیا ہے کہ افغانستان بطور ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ تمام اختلافات مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، اور کسی کو بھی افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جائے گی۔
یہ اہم بیان متقی اور متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید ال نہیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کے بعد سامنے آیا، جس میں دو طرفہ تعلقات، امریکا-افغانستان تعلقات، علاقائی صورتحال اور پاک-افغان حالیہ پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
افغان وزارت خارجہ کے اعلامیے کے مطابق متقی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف افغانستان کے تمام فوجی اقدامات خالصتاً دفاعی نوعیت کے تھے، تاہم انہوں نے جارحیت کی صورت میں جائز دفاع کا حق محفوظ رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
امریکی قیدی کی رہائی میں کامیاب ثالثی پر متقی نے متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا اور بقیہ معاملات دو طرفہ بنیادوں پر حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے متقی نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے مذمت کی، اور متحدہ عرب امارات کے صبر و تدبر کو سراہا۔
اماراتی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں اور امارات مسائل کے پرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

