اسلام آباد / واشنگٹن — 29 مارچ 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی وہ ٹویٹ اپنے Truth Social اکاؤنٹ پر ریپوسٹ کر دی جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ایران نے مزید 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جن میں سے روزانہ 2 جہاز یہ گزرگاہ عبور کریں گے۔
ڈار نے اسے ایران کی جانب سے ایک "خوش آئند اور تعمیری اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کی راہ ہموار کرے گا اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت آئی جب پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی تھیں، جن کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے ایرانی پاور پلانٹس پر حملوں کو ملتوی کر دیا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی 20 فیصد ایل این جی اور ایک چوتھائی بحری تیل کی ترسیل کا واحد راستہ ہے۔ تقریباً 2000 بحری جہاز اس تنگ گزرگاہ کے دونوں اطراف پھنسے ہوئے ہیں، جس کے باعث تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے — یعنی تقریباً 40 فیصد اضافہ۔
پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں پیغام رسانی کا کردار ادا کر رہا ہے، اور اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ امریکا نے ایران کو 15 نکاتی فریم ورک پیش کیا ہے جس پر ایران غور کر رہا ہے۔
اسلام آباد اتوار کو سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی میزبانی بھی کر رہا ہے تاکہ امریکا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔

