دنیا کے کم عمر ترین حکمران، بادشاہ اویو نیِمبا کابامبا ایگورو روکیدی چہارم، ۳۴ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ صرف ۳ سال کی عمر میں تخت نشین ہوئے تھے اور گنیز ورلڈ ریکارڈز نے انہیں دنیا کا کم عمر ترین حکمران قرار دیا تھا۔
یوگنڈا کی تورو سلطنت نے جمعرات کی رات ان کے انتقال کا اعلان کیا۔ بادشاہ اویو ۱۶ اپریل ۱۹۹۲ء کو پیدا ہوئے تھے اور اپنے والد، بادشاہ پیٹرک ڈیوڈ میتھیو کابویو اولیمی سوم کے انتقال کے بعد، ۱۲ ستمبر ۱۹۹۵ء کو تخت پر بیٹھے۔
اویو یوگنڈا کی ۴ کروڑ ۵۰ لاکھ سے زائد آبادی میں سے تقریباً ۳ فیصد لوگوں پر مشتمل تورو سلطنت کے سربراہ تھے۔ یوگنڈا کے بعض علاقوں میں روایتی بادشاہتیں موجود ہیں، تاہم ان کا کردار زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ ملک کا انتظام ایک منتخب صدر کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔
کم عمری کے باعث بادشاہ اویو کے معاملات چلانے کیلئے ان کی والدہ ملکہ بیسٹ کیمیگیسا، تورو سلطنت کے شاہی خاندان کے افراد اور یوگنڈا کے صدر یوویری موسیوینی پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ یہ انتظام اس وقت تک جاری رہا جب تک اویو ۱۸ برس کے نہیں ہوگئے۔
تورو سلطنت کے وزیرِاعظم کیلون آرمسٹرانگ روومائر اکییکی نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں بادشاہ اویو کے انتقال کا اعلان کیا۔ انہوں نے لکھا: "انتہائی گہرے دکھ اور بھاری دل کے ساتھ میں تورو کے اوموکاما (بادشاہ)، بادشاہ اویو نیِمبا کابامبا ایگورو روکیدی چہارم کے انتقال کا اعلان کرتا ہوں، جو آج رات تقریباً ۱۰ بجے ہوا۔”
سلطنت کی جانب سے بادشاہ کی بیماری یا اس اسپتال کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں جہاں ان کا انتقال ہوا۔ تاہم میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ کینسر میں مبتلا تھے اور امریکہ میں زیرِ علاج تھے۔
تورو سلطنت کے بیان میں کہا گیا کہ یہ شاہی خاندان، تورو کے عوام اور پورے یوگنڈا کیلئے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ بیان کے مطابق تدفین اور سوگ سے متعلق انتظامات سمیت مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

