یہ خبر سامنے آنے کے بعد کہ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے سونیا گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’بلانگنگ :اے جرنی آف لو ‘ کو ہندوستان میں شائع کرنے سے پیچھے ہٹ گیا ہے، اب پبلشنگ ادارے نے کہا ہے کہ وہ ہندوستان میں ’بلانگنگ‘ کا ناشر نہیں ہے۔ اس سے پہلےیہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پینگوئن انڈیا نے مسودے میں بعض ادارتی تبدیلیاں کرنے اور بعض اقتباسات حذف کرنے کا مشورہ دیا تھا، جسے سونیا گاندھی نے قبول نہیں کیا۔
سونیا گاندھی کی کتاب ’ بلانگنگ :اے جرنی آف لو‘ کا سرورق۔
نئی دہلی:یہ خبر سامنے آنے کے بعد کہ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کانگریس لیڈر سونیا گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’ بلانگنگ :اے جرنی آف لو‘ کو شائع کرنے والا تھا، لیکن اب وہ ایسا نہیں کرے گا، اب اس پبلشنگ ادارے نے وضاحت کی ہے کہ وہ ہندوستان میں اس کتاب کا ناشر نہیں ہے۔
اس سے پہلے جمعہ کو شائع ایک خبر میں انڈین ایکسپریس نے بتایا تھا کہ ناشر (پینگوئن) نے مسودے کے ایک حصے میں بعض ’اداراتی تبدیلیاں اور اقتباس حذف کرنے‘ کامشورہ دیا تھا، جسے سونیا گاندھی نے قبول نہیں کیا۔
اس خبر کے بعد پینگوئن انڈیا نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا،’پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا ہندوستان میں ’ بلانگنگ‘ کا ناشر نہیں ہے۔ یہ کہنا کہ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے مصنفہ کی جانب سے اداراتی تبدیلیاں کرنے سے انکار کیے جانے کی وجہ سے ’ بلانگنگ‘ شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا، واقعات کو درست طور پر پیش نہیں کرتا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا،’ایک ناشر کی حیثیت سے یہ ہمارا حق ہے اور ذمہ داری بھی کہ ہم حقائق کی جانچ کریں اور مصنفین کو ان کی کتابوں کے مفاد میں ضروری مشورہ دیں۔ یہ اشاعتی عمل کا ایک حصہ ہے۔ متعلقہ خبروں کے دوران پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کارخ یہی رہا کہ ہم اس کتاب کو شائع کرنے کے خواہش مند تھے۔‘

خبروں کے مطابق، پینگوئن کے پیچھے ہٹنے کے بعد اب امکان ہے کہ ہارپرکولنز ہندوستان میں اس کتاب کو شائع کرے گا ۔
پی آر ایچ آئیکے ساتھ یہ تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب موجودہ حکومت کے دور میں سیاسی طور پر حساس مواد کی وجہ سے مختلف ناشرین کی جانب سے کتابوں کی اشاعت سے پیچھے ہٹنے یا انہیں رد کرنے کے کئی متنازعہ معاملے سامنے آئے ہیں۔
گاندھی کی کتاب
امریکہ کے پبلشنگ ادارے الفریڈ اے ناف نے سب سے پہلے اس کتاب کی اشاعت کا اعلان کیا تھا۔ کتاب رواں سال 10 نومبر کو شائع ہونے والی تھی۔ ناشر نے بتایا تھا کہ کتاب کے پہلے ایڈیشن کی پہلی کھیپ میں ایک لاکھ نسخے چھاپے جائیں گے۔
مان جا رہا ہے کہ سونیا گاندھی کی یہ کتاب اب تک ان کی زندگی کی سب سے اہم اور نجی تفصیلات کو پیش کرے گی۔ جیسا کہ دی وائر نے پہلے رپورٹ کیا تھا، کتاب کے لیے ناف کی جانب سے جاری کیے گئے تعارف میں اسے ’محبت، خاندان اور ایک انتہائی دلچسپ ملک کی دل چھو لینے والی شخصی اور سیاسی کہانی‘ قرار دیا گیا تھا۔
ناشر نے کتاب کے بارے میں کہا، ’جوسونیا گاندھی، کبھی اپنی نجی زندگی کے بارے میں بہت کم بات کرنے کے لیے جانی جاتی تھیں، وہ اس کتاب میں اپنی غیر معمولی زندگی کی کہانی بیان کر رہی ہیں۔ یہ کہانی جنگ کے بعد کے اٹلی میں ان کے بچپن سے شروع ہوتی ہے اور اس محبت تک پہنچتی ہے، جو انہیں ہندوستان لے آئی۔ اس کے بعد انہیں ایسے گہرے ذاتی صدمے کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے نہ صرف ان کے اپنے مستقبل کو بدل دیا بلکہ ان کے اپنائے ہوئے ملک کا مستقبل بھی تبدیل کر دیا۔ یہ کتاب آزادی کے بعد ہندوستان کی ہنگامہ خیز تاریخ اور موجودہ سیاسی کشمکش کے بارے میں ایک ایسے شخص کا منفرد نظریہ بھی پیش کرتی ہے جو ان واقعات کے بیچ رہا ہے۔‘
ناف کی جانب سے کتاب کی اشاعت کے اعلان میں سونیا گاندھی کا ایک بیان بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا، ’میرے خاندان کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے، لیکن بہت کم تحریریں ایسی رہی ہیں جو ان کے فیصلوں کے پیچھے کی سوچ، ان کے کام اور یہاں تک کہ ان کی انسانی کمزوریوں کی حقیقت تک پہنچ پائی ہوں… میری کہانی قارئین کو ان سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کو دیکھنے کا ایک منفرد زاویہ بھی فراہم کرتی ہے، جنہیں میں نے چھ دہائیوں کے دوران اپنی آنکھوں کے سامنے رونما ہوتے دیکھا ہے۔‘
دیگر کتابیں
اس سال کے آغاز میں پینگوئن نے سابق آرمی چیف جنرل ایمایم نرونے کی یادداشتوں پر مبنی کتاب فور اسٹارز آف ڈیسٹنی شائع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کتاب میں گلوان میں ہندوستان اور چین کے درمیان ہوئی جھڑپ اور اگنی پتھ اسکیم سمیت سلامتی سے متعلق کئی اہم واقعات کے بارے میں نرونے کی تفصیلات شامل ہیں۔ تاہم، بعد میں لوک سبھا میں راہل گاندھی اس کتاب کی ہارڈ باؤنڈ کاپی ہاتھ میں لیے ہوئے نظر آئے تھے۔
یہ یادداشت اس وقت سرخیوں آئی، جب کارواں میگزین نے کتاب کے مواد کی بنیاد پر 2020 میں مشرقی لداخ میں پیدا ہوئے سرحدی بحران کے دوران لیے گئے سیاسی اور فوجی فیصلوں سے متعلق کئی معلومات شائع کی تھیں۔ جب گاندھی نے غیر مطبوعہ کتاب میں فوجی سربراہ کو دی گئی سیاسی ہدایات سے متعلق ایک حصے کا حوالہ دینے کی کوشش کی تو ایوان کے اسپیکر نے انہیں روک دیا۔ اس کے جواب میں پی آر ایچ آئی نے 10 فروری کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے غیر مطبوعہ کتاب پر اپنے کاپی رائٹ کا دعویٰ کیا تھا۔
جون 2026 میں اشاعتی ادارے نے معروف گرافک ناول نگار جو سیکو کی 2013 کے مظفر نگر فسادات پر مبنی کتاب کی اشاعت بھی رد کر دی تھی۔
دی وائر کے سدھارتھ بھاٹیہ کو دیے ایک انٹرویو میں سیکو نے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ پینگوئن انڈیا ’کتاب تقسیم نہیں کرنا چاہتا تھا‘ اور اسے چھوڑنے کے لیے بہانے تلاش کر رہا تھا۔ سیکو نے بتایا کہ ناشر کا اعتراض صرف ایک ’قابل اعتراض نقشے‘ پر نہیں تھا بلکہ اس نے کتاب کے پانچ صفحات میں تبدیلی کرنے کو کہا تھا۔
انہوں نے کہا، ’موجودہ سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے وہ ہندوستان میں اس طرح کی کتاب تقسیم نہیں کرنا چاہتے۔ شاید ان پر کسی طرح کا دباؤ بنایا جا رہا ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ پینگوئن انڈیا وزیر اعظم مودی کی کتاب کا ناشر بھی ہے۔ اس لیے اس کے پیچھے کئی طرح کی وجوہات ہو سکتی ہیں جن کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے۔ لیکن میرے لیے اہم بات یہ ہے کہ وہ مجھ سے ایسی تبدیلیاں کرنے کو کہہ رہے تھے جنہیں میں نامناسب سمجھتا ہوں۔ میں ایسا کرنے والا نہیں ہوں۔‘
اب یہ کتاب دہلی کے لیفٹ ورڈ بکس کی جانب سے ہندوستان میں شائع کی جائے گی اور اس کی قیمت بھی پہلے کے مقابلے میں کافی کم ہوگی۔

