بنگلہ دیش نے چین سے جدید J-10CE جنگی طیارے خریدنے کے معاہدے کی تصدیق کردی

fighter jet j10ce1788066982 0


ڈھاکا: بنگلہ دیش نے چین سے جدید J-10CE جنگی طیارے خریدنے کے معاہدے کی تصدیق کردی ہے۔

بنگلہ دیشی حکام کے مطابق گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی مختصر جنگ میں چینی ساختہ J-10 طیاروں کی کارکردگی نے ڈھاکا کی توجہ حاصل کی۔

جنوبی چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق بنگلہ دیش نے چین کے 4.5 نسل کے J-10CE لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت نے ان طیاروں کی خریداری کی تجویز منظوری کے لیے وزارت خزانہ اور مسلح افواج کے ڈویژن کو بھیج دی ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے اطلاعات و نشریات کے مشیر زاہد الرحمن کے مطابق اگر موجودہ مالی سال میں ضروری بجٹ مختص کردیا گیا تو طیاروں کی خریداری فوری طور پر شروع کردی جائے گی، بصورت دیگر یہ معاملہ اگلے بجٹ تک منتقل ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی دفاعی خریداری کے منصوبے میں چینی ساختہ حملہ آور ہیلی کاپٹرز، وی آئی پی ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز بھی شامل ہیں۔

J-10C چین میں تیار کیا جانے والا سنگل انجن، ملٹی رول جنگی طیارہ ہے جو فضائی اور زمینی دونوں اہداف کے خلاف کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً Mach 1.8 بتائی جاتی ہے اور اسے مختلف اقسام کے فضائی اور زمین پر مار کرنے والے ہتھیاروں سے لیس کیا جاسکتا ہے۔

بنگلہ دیشی حکام نے گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ میں J-10 طیاروں کی کارکردگی پر بھی توجہ دی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے J-10 طیاروں اور PL-15 طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی میزائلوں کا استعمال کیا تھا۔

بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان بھی دفاعی تعاون میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رواں سال جنوری میں دونوں ممالک کے فضائی افواج کے سربراہان نے JF-17 تھنڈر جنگی طیاروں کی ممکنہ خریداری سمیت دفاعی تعاون پر تفصیلی بات چیت کی تھی۔

بنگلہ دیشی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نے اسلام آباد میں پاکستان ایئر فورس کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں تربیت، استعداد بڑھانے اور ایرو اسپیس کے شعبے میں تعاون سمیت مختلف امور پر گفتگو ہوئی تھی۔

بنگلہ دیش کے نئے دفاعی خریداری منصوبے سے خطے میں اس کی فضائی اور دفاعی صلاحیت بڑھانے کی کوششوں کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم J-10CE طیاروں کی حتمی تعداد اور معاہدے کی مجموعی مالی مالیت سے متعلق تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ