جیمز ویب سے 100 گنا وسیع مشاہداتی میدان رکھنے والی ’رومن‘ دوربین روانہ

398089 911968085


ناسا کا جدید ترین شاہکار ’رومن سپیس ٹیلی سکوپ‘ اتوار کو خلا میں روانہ کر دیا گیا۔

یہ ٹیلی سکوپ دیگر ستاروں کے گرد موجود سیاروں کی تلاش، کائنات میں پوشیدہ تاریک توانائی کے رازوں سے پردہ اٹھانے اور کائنات کا پہلے سے کہیں زیادہ وسیع جائزہ لینے کے مشن پر روانہ ہوا ہے۔

سپیس ایکس نے 4.3 ارب ڈالر مالیت کی رومن سپیس ٹیلی سکوپ کو دن نکلنے کے کچھ ہی دیر بعد کینیڈی سپیس سینٹر سے تین گنا زیادہ طاقت رکھنے والے فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کیا۔

رومن تقریباً 16 لاکھ کلومیٹر دور ایک مشاہداتی مقام کی جانب روانہ ہوئی، جہاں ناسا کی ایک اور مہنگی اور اہم خلائی دوربین ’جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ‘ بھی موجود ہے۔

بس کے حجم کے برابر یہ دوربین، جس کا نام ناسا کی پہلی چیف ماہر فلکیات آنجہانی نینسی گریس رومن کے نام پر رکھا گیا ہے، اپنی منزل تک پہنچنے میں تین ماہ سے زیادہ وقت لے گی۔

وہاں پہنچنے کے بعد یہ خلا سے کائنات کے ان پوشیدہ حصوں کا اب تک کا وسیع ترین مشاہدہ کرے گی اور بے مثال رفتار سے ایسے حقائق سامنے لائے گی جن کا تصور بھی مشکل ہے۔

ناسا کی سائنس مشن ڈائریکٹر نکی فاکس نے کہا ’یہ ہزاروں سپرنووا، دسیوں ہزار سیارے، اربوں کہکشائیں اور دسیوں ارب ستارے دریافت کرے گی۔

’اپنے وسیع مشاہداتی میدان کی بدولت یہ ایسے کام کرنے کے قابل ہوگی جو ہم پہلے کبھی نہیں کر سکے۔‘

راکٹ کے زور دار دھماکے دار انداز میں روانہ ہونے کے چند منٹ بعد اس کے دوبارہ قابل استعمال دونوں سائیڈ بوسٹر نیچے اترے اور ایک سنسنی خیز منظر میں تیز آواز کے دھماکے پیدا کرتے ہوئے کیپ کیناویرل میں واپس لینڈ کر گئے۔

کچھ ہی دیر بعد دوربین بھی راکٹ کے اوپری حصے سے کامیابی سے الگ ہو گئی، جس پر زمینی کنٹرولرز نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا۔

فاکس یہ مناظر دیکھتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔ انہوں نے کہا ’یہ بہت اچھا دن ہے!‘

رومن کا مشاہداتی میدان ناسا کی ’ہبل سپیس ٹیلی سکوپ‘‘ کے مقابلے میں 100 گنا سے بھی زیادہ وسیع ہے، جو خلا میں 36 سال گزارنے کے باوجود اب بھی کائنات کی شاندار تصاویر بھیج رہی ہے۔

’جیمز ویب‘ بھی چند سال قبل اس کوشش میں شامل ہوئی، جس کا مشاہداتی میدان نسبتاً محدود ہے۔ تاہم یہ انتہائی درستگی سے ان اجرام فلکی کو بھی زوم کرکے دیکھ سکتی ہے جو کائنات کو وجود میں لانے والے بگ بینگ کے تقریباً اتنے ہی قدیم ہیں۔

یہ تینوں خلائی دوربینیں یورپی خلائی ایجنسی کے ’یوکلڈ‘ خلائی مشن اور چلی میں نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی ’ویرا سی روبن آبزرویٹری‘ کے ساتھ مل کر کائنات کے بعض سب سے بڑے رازوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش کریں گی۔

دریافت کی منتظر بے شمار کہکشاؤں میں ایسے ستارے بھی موجود ہیں جن کے گرد سیارے گردش کرتے ہیں۔

رومن جب ان نئی دنیاؤں کا سراغ لگائے گی تو زیادہ طاقتور اور حساس ویب دوربین ان کا مزید تفصیلی جائزہ لے گی تاکہ باقی ماندہ معلومات حاصل کی جا سکیں۔

مشن کی سینیئر سائنس دان جولی میک اینری نے روانگی سے ایک روز قبل کہا ’رومن کی وسیع رسائی ہمیں عجیب، نایاب اور غیر معمولی چیزیں تلاش کرنے کے قابل بنائے گی۔

’ہم یہ تصور ہی بدل دیں گے کہ گھاس کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے کا مطلب کیا ہے۔‘

شاید اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ماہرین فلکیات کو توقع ہے کہ رومن اس تاریک مادے اور تاریک توانائی کے بارے میں روشنی ڈالے گی جو کائنات کا بیشتر حصہ تشکیل دیتے ہیں، لیکن اب تک پوشیدہ ہیں۔

رومن کی تیار کردہ کہکشاؤں کی فہرست سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد دے گی کہ ان پراسرار اور نظر نہ آنے والی قوتوں کے باعث کائنات کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے۔

رومن کی سب سے بڑی طاقت اس کی رفتار ہے۔ میک اینری کے مطابق رومن کے ذریعے ملکی وے کہکشاں کے ایک ماہ کے مشاہدے کو مکمل کرنے میں ہبل کو ایک صدی لگ جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ رومن کہکشاں کے عین مرکز میں موجود کہکشاں کے ابھار کا بہت تیزی سے جائزہ لے سکے گی، جس سے ہماری کہکشاں کے مرکز کا اب تک کا سب سے گہرا مشاہدہ ممکن ہوگا۔

ہبل جتنی حساسیت رکھنے والے مگر ایک ہزار گنا زیادہ تیز رفتار وسیع میدان والے انفراریڈ کیمرے کے علاوہ رومن میں ستاروں کی روشنی کو روکنے والا ایک آلہ بھی نصب ہے۔

یہ تجرباتی ’کورونوگراف‘ سورج گرہن جیسا ماحول پیدا کرے گا، جس کی مدد سے رومن کسی ایسے سیارے کی براہِ راست تصویر لے سکے گی، خواہ وہ کتنا ہی مدھم کیوں نہ ہو، جو اس طرح چھپائے گئے ستارے کے گرد گردش کر رہا ہو۔

دوربین کو مستقبل میں دوبارہ ایندھن فراہم کرنے کے قابل بنایا گیا ہے، یعنی اگر آئندہ دہائی میں کوئی روبوٹک ٹینکر دستیاب ہوگیا تو اس کے ذریعے رومن کی عملی عمر میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

رومن کو طے شدہ وقت سے تقریباً ایک سال پہلے اور مقررہ بجٹ کے اندر خلا میں روانہ کیا گیا۔ یہ ناسا کی پہلی خلائی دوربین ہے جس کا نام کسی خاتون کے نام پر رکھا گیا ہے۔

ناسا کے ریٹائرڈ سائنس دان ایڈ وائلر نے کہا کہ یہ اعزاز بہت پہلے مل جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے رومن کے لیے ’ہبل کی ماں‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی، جنہوں نے 1978 میں انہیں ملازمت دی تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

1959 میں ناسا میں شمولیت کے بعد رومن نے اصرار کیا تھا کہ زمین کے دھندلے اور رکاوٹ پیدا کرنے والے ماحول سے اوپر موجود رصدگاہیں کائنات کو زیادہ دور تک اور بہتر انداز میں دیکھ سکتی ہیں۔

نینسی گریس رومن 2018 میں 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔

وائلر نے کہا ’یہ بہت، بہت موزوں ہے۔ میرے خیال میں نینسی کو اس بات پر بہت فخر ہوتا‘ کہ ان کے نام سے منسوب دوربین کائنات سے متعلق دیرینہ اور اہم ترین سوالات، بشمول تاریک توانائی، کا جواب تلاش کرے گی۔

ہبل کو 1990 میں خلا میں بھیجا گیا تھا لیکن اس کے آئینے میں ایک نقص تھا، جسے دور کرنے کے لیے خلانوردوں کو خلائی چہل قدمی کرتے ہوئے ایک انتہائی اہم مرمتی کارروائی کرنا پڑی۔

رومن کا بنیادی آئینہ بھی ہبل کے آئینے جتنا ہی بڑا ہے، جس کا قطر تقریباً 8 فٹ (2.4 میٹر) ہے، اور دراصل یہ جاسوسی سیٹلائٹ کا اضافی آئینہ ہے۔

نیشنل ریکونیسنس آفس نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل ایسے دو اضافی آئینے ناسا کو دیے تھے تاکہ انہیں نئے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ دوسرا آئینہ اب بھی محفوظ رکھا ہوا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ