اسلام آباد اور ریاض نے اتوار کو غذائی تحفظ اور زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ آئندہ دو برس کے دوران سعودی عرب کو پاکستان کی زرعی اور غذائی مصنوعات کی برآمدات بڑھا کر تین ارب ڈالر تک پہنچائی جائیں گی۔
سعودی وزیر برائے ماحولیات، پانی و زراعت عبدالرحمان الفضلی کے 26 سے 28 اگست تک اسلام آباد میں اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے دونوں ممالک کا ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔
عبدالرحمٰن الفضلی کی سربراہی میں سعودی وفد نے جمعے کو وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق ملاقاتوں کے دوران پاکستانی اور سعودی وفود نے اس بات کو اجاگر کیا کہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت غذائی تحفظ کی ترجیحات اور پاکستان کے زرعی و غذائی برآمدی شعبوں میں مضبوط ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ’دونوں ممالک نے پاکستان کی زرعی اور غذائی مصنوعات کی سعودی عرب کو برآمدات دو سال کے دوران بڑھا کر تین ارب ڈالر تک پہنچانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جائن کریں
اعلامیے کے مطابق اس مقصد کے لیے چاول، سرخ گوشت، پھل اور ان کے جوس و دیگر مرتکز مصنوعات، سبز چارہ اور پانی کے مؤثر استعمال پر توجہ مرکوز کرنے والی زرعی ٹیکنالوجیز کو سعودی نجی شعبے کے ساتھ تعاون کے لیے ترجیحی شعبوں کے طور پر شناخت کیا گیا۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ دونوں فریقوں نے اس امر کا جائزہ لیا کہ پاکستان نے 2025 میں سعودی عرب کو تقریباً ایک لاکھ 69 ہزار ٹن چاول برآمد کیے، جن کی مالیت 16 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھی۔
سعودی وفد نے آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان چاول کی باہمی تجارت بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
اسی طرح فریقین نے پاکستان کی جانب سے سالانہ تقریباً 30 ہزار ٹن سرخ گوشت کی فراہمی کا بھی جائزہ لیا، جس کی مالیت 16 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہے۔
اعلامیے کے مطابق سعودی وفد نے پاکستان سے سرخ گوشت کی درآمدات بتدریج دگنی کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
اعلامیے میں کہا گیا ’پھلوں اور ان کے مرتکز اجزا کے حوالے سے دونوں فریقوں نے سعودی مارکیٹ میں پاکستان کے حصے میں مزید اضافے کے نمایاں امکانات کو اجاگر کیا۔‘
مشترکہ اعلامیے کے مطابق عبدالرحمٰن الفضلی کی سربراہی میں سعودی وفد نے سبز چارے کو تجارت بڑھانے اور طویل مدتی فراہمی کے معاہدے قائم کرنے کے لیے ایک ’امید افزا شعبہ‘ قرار دیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دونوں ممالک نے بھکر میں پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی آبپاشی پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کا خیرمقدم کیا اور دوسرے مرحلے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا، جس سے چھوٹے پیمانے پر کاشت کاری کرنے والے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔
سعودی وفد نے پاکستان کو بین الاقوامی کھجور کونسل میں شمولیت کی ترغیب بھی دی، جس کا پاکستان نے خیرمقدم کیا۔
سعودی عرب میں قائم یہ کونسل ملک اور بیرونِ ملک کھجور کی کاشت اور اس سے وابستہ صنعت کے فروغ اور ترقی پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق ’دونوں فریقوں نے پاکستانی نجی شعبے کی جانب سے مویشیوں، زرعی و غذائی مصنوعات کی پراسیسنگ اور چاول کی ویلیو چین کے شعبوں میں پیش کی جانے والی سرمایہ کاری کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا۔‘
پاکستان نے سعودی عرب کی جانب سے اسے 43ویں سعودی ایگریکلچر نمائش میں شرکت کی دعوت کا خیرمقدم کیا، جو 19 سے 22 اکتوبر تک ریاض میں منعقد ہوگی۔
پاکستان اور سعودی عرب نے کئی دہائیوں پر محیط اپنی برادرانہ تعلقات کو دفاع، زراعت، لائیو سٹاک، معیشت، سرمایہ کاری، تجارت اور دیگر شعبوں میں مزید مضبوط تعاون میں تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ان کوششوں کے نتیجے میں حالیہ مہینوں کے دوران دونوں ممالک اقتصادی، دفاعی اور تجارتی تعاون سے متعلق اہم معاہدوں پر دستخط بھی کر چکے ہیں۔

