اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پانچ روز قبل پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے میں مرنے والے 14 بچوں میں سے ایک لاوارث بچے، جو پیدائش کے بعد سے ہسپتال میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا تھا، کی تدفین کر دی گئی ہے۔
ایدھی سینٹر اسلام آباد کے مینیجر اللہ دتہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’علی نامی لاوارث بچے کو سیکٹر ایچ الیون کے قبرستان میں لاوارث افراد کے مقرر کردہ حصے میں دفن کیا گیا ہے۔‘
پمز میں 26 اگست کی صبح مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر نرسری کے اندر آگ بھڑکنے کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی موت ہو گئی تھی۔
واقعے کے بعد 29 اگست کو وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں پمز اور متعلقہ اداروں کے آٹھ افسران کو معطل کر کے فوری طور پر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
آتشزدگی کے نتیجے میں مرنے والے تمام ہی بچوں کی لاشیں 26 اگست کو ہی لواحقین کے حوالے کر دی گئی تھیں تاہم ان میں سے ایک بچے کی لاش وصول کرنے کوئی موجود نہیں تھا۔
ہسپتال انتظامیہ نے اس بچے کو ’علی‘کا نام دیا تھا، جسے دو ماہ گزر جانے کے باوجود پمز ہسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (ایم سی ایچ) نرسری میں دیگر بیمار بچوں کے ساتھ رکھا گیا تھا۔
ایدھی سینٹر اسلام آباد کے مینیجر اللہ دتہ کے مطابق ’تمام 14 لاشیں میں نے خود وصول کیں۔ تمام میتوں کو ایدھی ایمبولینس سروس نے ہی منتقل کیا، اس موقع پر میں اور ایدھی کے کچھ دیگر رضاکار وہاں موجود تھے۔‘
اللہ دتہ کے مطابق ’اسلام آباد پولیس کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ایاز نے بچے کی میت ہمارے حوالے کی۔ واقعہ کے روز اسلام آباد پولیس کے اہلکار رمضان جو پمز ہسپتال میں ڈیوٹی پر معمور تھے، ہمارے ساتھ کام کر رہے تھے۔ میں نے گذشتہ روز انہیں بتایا کہ بچے کی تدفین ہو چکی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایدھی مینیجر نے بتایا کہ ’لاوارث بچہ کئی روز سے ہسپتال میں داخل تھا جبکہ اس کے والدین ہسپتال سے غائب تھے۔ ہسپتال انتظامیہ کا بھی بچے کے والدین سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔‘
کیا ایدھی سینٹر سے بچے کی میت کے لیے اہل خانہ یا کسی متعلقہ فرد نے رابطہ کیا؟ اس سوال ہر اللہ دتہ نے کہا کہ ’بچے کے لیے کسی نے ایدھی سینٹر سے رابطہ نہیں کیا۔ لیکن اگر ہم سے کوئی بچے کے لیے رابطہ کرتا ہے تو ہم میت واپس کر سکتے ہیں۔‘
اس معاملہ پر گفتگو کرتے ہوئے مینیجر ایدھی سینٹر اسلام آباد نے مزید بتایا کہ ’کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے لاوارث لاشوں کے لیے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ الیون میں واقع قبرستان جگہ مختص کر رکھی ہے۔‘
میسر تفصیلات کے مطابق پمز کی ایک خاتون ڈاکٹر کے مطابق بچے کی پیدائش 21 جون کو ایک کم عمر لڑکی کے ہاں ہوئی تھی، جس کی عمر بظاہر تقریباً 15 سال تھی۔
’لڑکی کے پاس اپنی شادی کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے کوئی دستاویز موجود نہیں تھے۔ ہسپتال کے عملے نے اس کے شوہر اور دادی سے شادی کا ثبوت فراہم کرنے کو کہا، لیکن جب وہ مطلوبہ دستاویزات پیش نہیں کر سکے تو وہ بچے کو چھوڑ کر چلے گئے اور دوبارہ واپس نہیں آئے۔‘
ڈاکٹر نے بتایا کہ ’بچے کی پیدائش کے وقت سے ہی پولیس اس معاملے میں شامل تھی اور اس نے شادی کا ثبوت فراہم کیے جانے تک بچے کو خاندان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کیس کو میڈیکو لیگل کارروائی کے لیے رپورٹ کیا گیا تھا۔‘

