
(ویب ڈیسک )ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے صرف عالمی تیل مارکیٹ ہی نہیں بلکہ کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والی مائع پٹرولیم گیس ایل پی جی کی عالمی تجارت کو بھی شدید متاثر کردیا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال جون میں Clipper Vanguard نامی جہاز امریکا سے LPG لے کر بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی ہلدیا بندرگاہ پہنچا۔ جہاز نے یہ سفر تقریباً 48 دن میں مکمل کیا، جو خلیج فارس سے بھارت تک LPG پہنچنے کے معمول کے راستے کے مقابلے میں تقریباً سات گنا زیادہ طویل تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس متبادل راستے سے صرف مال برداری کی لاگت ہی معمول کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ پڑ سکتی ہے۔
ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے فروری کے آخر میں شروع ہونے کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت سخت کردی، جس کے نتیجے میں اس اہم آبی گزرگاہ سے LPG کی ترسیل تقریباً 80 فیصد کم ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں:Gold Price میں بڑی کمی! پاکستان میں سونا فی تولہ کتنا ہوگیا؟
اس صورتحال کا اثر بھارت کی ہلدیا بندرگاہ پر بھی پڑا، جہاں LPG کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ یہ بندرگاہ بھارت کے پیچیدہ LPG سپلائی نیٹ ورک کا اہم حصہ ہے، جہاں درآمد شدہ گیس اسٹوریج ٹینکس، بوتلنگ پلانٹس اور پھر مقامی ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے لاکھوں صارفین تک پہنچتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چند ماہ قبل صورتحال اس حد تک خراب ہوگئی تھی کہ بھارت میں LPG کی قلت نے شدید مشکلات پیدا کیں۔ بعض مقامات پر گیس کے حصول کے لیے جھگڑوں، کھانے کے معمولات میں تبدیلی اور حتیٰ کہ چوری کے واقعات تک سامنے آئے۔
تاہم عالمی LPG صنعت نے سپلائی کے نئے راستے تلاش کرکے مکمل بحران سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ امریکا سے بھارت تک طویل سمندری راستوں کا استعمال اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والا LPG بحران دراصل عالمی توانائی بحران کی ایک چھوٹی مثال ہے، جس میں سپلائی مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا زیادہ سست، مہنگا اور پیچیدہ ہوگیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث جہازوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے سفر کا دورانیہ، ایندھن اور مال برداری کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور بالآخر اس اضافی لاگت کا اثر صارفین کے گھریلو بجٹ تک پہنچ رہا ہے۔
ایران جنگ کے چھ ماہ کے دوران LPG کی عالمی تجارت میں آنے والی یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے کچن، صنعتوں اور روزمرہ زندگی تک پہنچ چکے ہیں۔

