پاکستان کا 5 اور 10 سالہ یوروبانڈ جاری کرنے کا عمل شروع

398169 1354234951


وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان نے مارکیٹ کی صورت حال سے مشروط پانچ اور 10 سالہ مدت پر مشتمل امریکی ڈالر بینچ مارک ڈوئل ٹرانچ یورو بانڈ کے اجرا کا عمل شروع کر دیا ہے۔

خرم شہزاد نے اپنے آفیشل ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی کے حوالے سے ایک اور اہم قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ عمل پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں مسلسل بہتری، مضبوط ہوتے میکرو اکنامک بنیادی عوامل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے بعد شروع کیا گیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جوائن یہاں کریں

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیر خزانہ کے مشیر نے کہا کہ مجوزہ بانڈ، جس کی مدت پانچ اور 10 سال ہوگی، عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے روابط اور بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں میں پائیدار موجودگی دوبارہ قائم کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

خرم شہزاد نے کہا کہ ’استحکام، اعتماد، عالمی منڈیوں تک رسائی‘، اور ان الفاظ کے ذریعے انہوں نے ان پیش رفتوں کی ترتیب کو اجاگر کیا جو عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی واپسی کی بنیاد بن رہی ہیں۔

حالیہ اقدام اپریل 2026 میں پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ منڈی میں کامیاب واپسی کے بعد سامنے آیا ہے، جب چار سال کے وقفے کے بعد پاکستان نے اپنے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (GMTN) پروگرام کے تحت تین سالہ یورو بانڈ جاری کرکے 50 کروڑ ڈالر حاصل کیے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس بانڈ کے اجرا کو سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی تھی، جسے مشیر نے پاکستان کے معاشی مستقبل پر سرمایہ کاروں کے دوبارہ بحال ہونے والے اعتماد کی علامت قرار دیا تھا۔

یورو بانڈ کیا ہے؟

یورو بانڈ بنیادی طور پر ایسا بانڈ ہوتا ہے جسے کوئی حکومت یا ادارہ اپنی مقامی کرنسی کے بجائے کسی غیر ملکی کرنسی میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے جاری کرتا ہے۔ پاکستان کے معاملے میں یہ بانڈ امریکی ڈالر میں جاری کیا جاتا ہے۔

حکومتیں یورو بانڈز کے ذریعے عالمی سرمایہ منڈیوں سے براہ راست مالی وسائل حاصل کرسکتی ہیں، جس سے انہیں مقامی ذرائع کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاری تک رسائی ملتی ہے۔

پاکستان کے لیے موجودہ اقدام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ملک کی مالیاتی ساکھ کو بہتر بنانے اور مستقبل میں بین الاقوامی مارکیٹ سے قرض حاصل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ