کراچی، جھوٹا مقدمہ درج کرنا پولیس افسران، مدعی اور دیگر نامزد ملزمان کو مہنگا پڑ گیا

karachi police dunya1768905081 0



کراچی:

شہر قائد کے شاہ لطیف ٹاؤن تھانے میں جھوٹا مقدمہ درج کرنا پولیس افسران ، مدعی اور دیگر نامزد ملزمان کو مہنگا پڑ گیا۔

شاہ لطیف ٹاؤن پولیس نے نئے ایس ایچ او کی مدعیت میں اپنے ہی تھانے کے سابق ایس ایچ او ، سابق ایس آئی او ، انویسٹی گیشن افسر اور جھوٹا مقدمہ درج کرانے والے مدعی سمیت دیگر نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 1661 سال 2026 درج کرلیا جس میں دفعات 120 بی ، 167 ، 220 ، 193 ، 195 ، 182 ، 211 ، 420 ، 468 اور 471 چونتیس کو شامل کیا گیا ہے۔

30 اگست کی رات درج کیے گئے مقدمے میں مدعی مقدمہ ایس ایچ او شاہ لطیف سب انسپکٹر محمد علی شاہ نے بیان دیا ہے کہ ایس پی ملیر ڈویژن کی جانب سے ایک انکوائری رپورٹ قانونی کارروائی موصول ہوئی جس کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ 17 اگست کو مقدمہ نمبر 1572 سال 2026 بجرم دفعات 380 ، 457 اور 454 جو کہ تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا جس کے اصل حقائق یہ ہیں کہ مذکورہ مقدمہ ایک معصوم شہری کے خلاف باقاعدہ منظم مجرمانہ سازش کے تحت درج کرایا گیا تھا۔

مدعی مقدمہ نصرالرحمٰن رہائشی ماڈل کالونی نے اپنے دیگر ساتھیوں ندیم عدنان ، فیصل زیشان ، شکیل اور اسحاق کے ساتھ ملکر شاہ لطیف ٹاؤن سیکٹر 20 بی میں بیٹھ کر معصوم شہری کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے اور بلیک میل کرنے کی نیت سے منصوبہ بندی کی۔

ان ملزمان نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن کے اس وقت کے ایس ایچ او غلام نبی اور سابق ایس آئی او فرمان علی اور سابق آئی او افتخار کے ساتھ مبینہ سازباز اور ملی بھگت کی اور ان پولیس افسران نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بدنیتی کی بنیاد پر پلاٹ کی فائلوں اور زیورات کی چوری کی ایک من گھڑت کہانی پر مبنی ایف آئی آر قائم کروائی۔

مدعی کے مطابق آئی او نے ملزمان کو فائدہ پہنچانے کے لیے جائے وقوعہ کا غلط فرضی معائنہ موقع مرتب کیا اس سازش کو پکا کرنے کے لیے مدعی مقدمہ نے ایک جیولرکو بھی اس جرم میں شامل کیا اور طاہر نامی شخص کو جیولر کا فرضی ملازم بھی ظاہر کیا تاکہ اسے بطور جھوٹا گواہ پیش کر کے معصوم شہری کی گرفتاری عمل میں لائی جا سکے۔

مدعی مقدمہ ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاؤن کے مطابق سارا منصوبہ اس لیے بنایا گیا کہ معصوم شہری کے بھائی نے ملزمان زیشان و عدنان اور دیگر کے خلاف عوامی کالونی تھانے میں مقدمہ درج کرایا تھا جس کا بدلہ لیا جا سکے ، شاہ لطیف ٹاؤن پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔





Source link

متعلقہ پوسٹ