ڈیفنس تشدد واقعہ؛ ایس ایس پی فدا جانوری، انکے رشتے داروں اور اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی سفارش

umer 2026 09 04t044805 7791788522636 0



کراچی:

کراچی میں پیش آنے والے ایک وائرل واقعے کی اعلیٰ سطح انکوائری رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی، اُن کی ساس، سالی، سالے اور دیگر اہلکاروں پر مقدمہ درج کرنے کی سفارش کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق 21 اگست کو درخشان تھانے کے علاقے ڈیفنس فیز 6 چھوٹا بخاری کمرشل ایریا کے رہائشی اپارٹمنٹ میں بااثر خواتین کا پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں اپارٹمنٹ کے رہائشی بہن بھائی پرتشدد کا واقعہ پیش آیا تھا، 28 اگست کوواقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس پرایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کو انکوائری افسر مقرر کیا تھا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ نے انکوائری مکمل کرکے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو رپورٹ ارسال کردی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ میں متاثرہ بہن بھائی علی احسن اور بہن نورالعین کے خلاف درخشاں تھانے میں درج کیے گئے مقدمہ الزام نمبر26/578 کو بی کلاس کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

انکوائری پورٹ میں بتایا گیا کہ ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کی جانب سے معاملے میں انتظامی غفلت برتی گئی، انکوائری پورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور ان کے محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

انکوائری پورٹ میں ایس ایس پی کی ساس، سالی، سالے اور موقع پر موجود ضلع کورنگی کے 4 اہلکاروں سمیت تمام پولیس اہلکاروں پر مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

انکوائری رپورٹ میں سابق ایس ایچ او درخشاں راشد علی اور ایس آئی یو درخشان، موبائل افسر آفتاب منگی کو بھی معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

انکوائری رپورٹ میں متاثرہ بہن بھائی کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے، انکوائری رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کردی گئی ہے اور رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

 

ڈی آئی جی ساؤتھ نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے آئی جی سندھ کو ارسال کردی جس میں متاثرہ خاندان کے خلاف درج مقدمہ فوری طور پر جھوٹا قرار دے کر ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ابتدائی ایف آئی آر متاثرہ خاندان کے خلاف مریم نامی خاتون کی مدعیت میں درج کی گئی تھی، جن کے بارے میں میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ وہ ایس ایس پی جانواری کی قریبی رشتہ دار ہیں۔ الزام تھا کہ مذکورہ خاتون نے کورنگی پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں متاثرین پر حملہ کیا۔

انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں متاثرہ خاندان کے خلاف تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ انویسٹی گیشن کو ہدایت دی ہے کہ کیس کو "بی کلاس” میں ختم کیا جائے۔

رپورٹ میں مریم، ان کے بیٹے، بیٹی اور واقعے کے وقت موجود پولیس اہلکاروں کے خلاف نیا مقدمہ درج کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

مزید برآں، ایس ایچ او درخشاں انسپکٹر راشد علی، اے ایس آئی آفتاب منگی، انویسٹی گیشن آفیسر ایس آئی پی عمران اور چار کانسٹیبلز کے خلاف غیر قانونی گرفتاری، سی سی ٹی وی کیمروں کی توڑ پھوڑ اور جانبداری برتنے پر سخت محکمانہ کارروائی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ