اسرائیلی روزنامہ ہاریٹز کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی حمایت یافتہ اسرائیلی سیکورٹی افسران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ اخبار نے جمعہ کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی افسران ٹرمپ کے امن بورڈ کے ساتھ کھلے عام تعاون سے انکار کر رہے ہیں۔
ہاریٹز نے معاملے سے واقف گمنام ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ “امن بورڈ اور اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان باہمی مایوسی” پائی جاتی ہے، اور افسران اب اسے چھپانے کی کوشش بھی نہیں کر رہے۔ قومی سلامتی کونسل، وزارت دفاع اور فوج کی جنوبی کمانڈ سے تعلق رکھنے والے افسران نے امریکی سفارت کاروں کو بتایا کہ واشنگٹن نے انہیں “معمولی” سمجھا، اور روڈ میپ پر تنقید کی کہ اس سے حکومت ایسی نظر آئے گی جیسے وہ “اسرائیل کو بیچ رہی ہے۔”
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے 9 اگست کو اس روڈ میپ کو مسترد کر دیا، اس بات پر اصرار کرتے ہوئے کہ کسی بھی اسرائیلی انخلاء سے قبل حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کر دیا جائے۔ ایک اور ذریعے نے ہاریٹز کو بتایا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات “انتہائی خراب” ہیں۔
اسرائیل میں 27 اکتوبر کو کنیسیٹ کے انتخابات ہونے ہیں، جبکہ نیتن یاہو اور ان کی پارٹی لیکوڈ کے پول نمبرز میں کمی آ رہی ہے۔ ہاریٹز نے کہا کہ اسرائیل ہزاروں غزہ والوں کی روانگی میں بھی رکاوٹ ڈال رہا ہے، جنہیں تکنیکی کمیٹی نے غزہ میں نئی پولیس فورس میں خدمات کے لیے بھرتی کیا تھا۔ بھرتی شدہ افراد کو مصر میں تربیت کے لیے غزہ سے نکلنے سے روک دیا گیا ہے، اور امن بورڈ کو خدشہ ہے کہ اگر انہیں جانے کی اجازت بھی دی گئی تو اسرائیل سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں واپس آنے سے روک سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے 29 ستمبر 2025 کو غزہ جنگ ختم کرنے کے لیے 20 نکاتی منصوبہ کا اعلان کیا تھا، جس میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، حماس کا غیر مسلح ہونا، جزوی اسرائیلی انخلاء، تکنیکی انتظامیہ کا قیام اور بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی شامل تھی۔ منصوبے کا پہلا مرحلہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا؛ حماس نے شرائط پوری کیں مگر اسرائیل نے اپنے وعدوں سے منہ موڑ لیا اور حملے جاری رکھے۔ دوسرا مرحلہ، جو 17 نومبر 2025 کو منظور شدہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل قرارداد 2803 کی توثیق حاصل ہے، وسیع تر اسرائیلی انخلاء، تعمیر نو اور غیر مسلح کرنے کے عمل کا مطالبہ کرتا ہے، تاہم اسرائیل اب بھی غزہ کا تقریباً 70 فیصد حصہ اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہے۔
یاد رہے کہ یہ معاہدہ اسرائیل کی غزہ پر نسل کشی کی جنگ کے دو سال بعد ہوا، جو 8 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی اور اس کے بعد سے مختلف شکلوں میں جاری ہے۔ اسرائیلی جارحیت میں 73,000 سے زائد فلسطینی شہید، 174,000 سے زائد زخمی ہوئے، اور غزہ کے تقریباً 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر کو وسیع پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔

